کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {ولا یحل لھنَّ أن یَّکتمن ما خلق اللّٰہ فی أرحامھن} کی تفسیرکا بیان
٢٠٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن خالد الحذاء عن عكرمة في قوله (تعالى) (١): ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [البقرة: ٢٢٨]، قال: الحيض، ثم قال خالد: الدم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حیض ہے اور حضرت خالد فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خون ہے۔
٢٠٢٢٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن (مطرف) (٢) عن الحكم (عن) (٣) مجاهد وإبراهيم قال أحدهما: الحبل، (وقال الآخر) (٤): الحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حمل اور حیض ہے اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حیض ہے۔
٢٠٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن حجاج عن (ابن) (١) أبي نجيح عن مجاهد قال: أن تقول: أنا حامل، وليست بحامل، أو تقول: أنا حائل، وليست بحائل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت یہ کہے کہ میں حاملہ ہوں حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ یا وہ یہ کہے کہ میں حائل ہونے والی ہوں حالانکہ وہ حائل ہونے والی نہ ہو۔
٢٠٢٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن (عبيدة) (١) عن (ابن) (٢) ⦗٤٥٤⦘ سعيد بن جبير عن أبيه عن ابن عباس قال: الحيض والحبل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادحیض اور حمل ہے اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حمل ہے۔
٢٠٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن جويبر عن الضحاك قال: الولد والحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراداولاد اور حیض ہے۔
٢٠٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة عن ورقاء عن بن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾، قال: لا يحل للمطلقة أن تقول: (أنا) (١) حائض، وليست بحائض، ولا تقول: إني حبلى و (ليست) (٢) بحبلى، ولا تقول: لست، بحبلى و (هي) (٣) حبلى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ طلاق شدہ عورت کے لئے یہ کہنا حلال نہیں کہ میں حائضہ ہوں حالانکہ وہ حائضہ نہ ہو اور یہ کہنا بھی جائز نہیں کہ میں حاملہ ہوں حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو اور جب وہ حاملہ ہو تو یہ کہنا درست نہیں کہ میں حاملہ نہیں ہوں۔
٢٠٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن عكرمة: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾، قال: (الحبل والحيض، وقال إبراهيم) (١): (الحيض) (٢) وحده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادحیض ہے۔
٢٠٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا ابن فضيل عن مطرف عن الحكم عن مجاهد: (﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ قال) (١): الحبل والحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادحمل اور حیض ہے اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حیض ہے۔