کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد عورت اس کے گھر سے جاسکتی ہے
١٩٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الحكم قال: (نقل) (١) علي أم كلثوم (حين) (٢) قتل عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا گھر اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کا گھر تبدیل کرادیا تھا۔
١٩٩٦٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عيينة) (١) عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: تخرج] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد عورت اس کے گھر سے جاسکتی ہے۔
١٩٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء و (١) أبي الشعثاء في المتوفى عنها (قالا) (٢): تخرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اور حضرت ابو شعثائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد عورت اس کے گھر سے جاسکتی ہے۔
١٩٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (ميسر) (١) عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
١٩٩٦٧ - وعن أبي الزبير عن جابر (١) (قالا) (٢): تعتد المتوفى عنها زوجها حيث (شاءت) (٣) (٤).
١٩٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن (إسماعيل) (١) عن الشعبي قال: كان علي (يرحِّل) (٢) المتوفى عنها زوجها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ خاوند کے فوت ہوجانے کے بعد عورت کو اس کے گھر سے جانے کی اجازت دیتے تھے۔
١٩٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن فراس عن الشعبي أن عليًا (نقل) (١) أم كلثوم بعد سبع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (اپنی صاحبزادی) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے سات دن بعد اپنے گھر لے آئے تھے۔