کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو تو اس سے ایلاء کے لئے کتنا عرصہ ہوگا؟
١٩٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عليه عن يونس عن الحسن أنه كان يقول في الإيلاء من الأمة: (إذا) (١) مضى شهران ولم يفيء زوجها فقد وقع الإيلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو اور وہ اس سے ایلاء کرے تو دو مہینے گذر جانے پر ایلاء واقع ہوجائے گا۔
١٩٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن إبراهيم فيمن آلى من أمة قال: (إيلاؤه) (١) شهران.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی سے ایلاء کی مدت دو ماہ ہے۔
١٩٦٦٧ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا حفص عن أشعث عن (١) الشعبي قال: إيلاء الأمة نصف إيلاء الحرة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کا ایلاء آزاد عورت کے ایلاء سے ہے۔
١٩٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٩٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك بها الحر إذا آلى من الأمة أو (طلقها) (١) فعدتها نصف عدة الحرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آزاد نے باندی سے ایلاء کیا یا اسے طلاق دی تو اس کی عدت آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے۔
١٩٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة قال نا شعبة قال: سألت الحكم عمن يولي من الأمة فقال: قال إبراهيم: عدتها شهران.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی سے ایلاء کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس کی عدت دو ماہ ہے۔ اور میں نے حضرت حماد رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔