کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائنہ دے پھر اس کی عدت میں ایک اور طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
١٩٢٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا طلق الرجل (امرأته) (١) واحدة بائنًا، وقع (عليها) (٢) طلاقه ما كانت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے پھر اس کی عدت میں ایک اور طلاق دے دے تو عدت میں دی گئی ہر طلاق معتبر ہوگی۔
١٩٢٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر (١) عن قتادة عن (سعيد) (٢) بن المسيب في الرجل يطلق امرأته طلاقًا بائنًا ثم يتبعها بطلاق في عدتها قال: يلحقها طلاقه ما كانت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے پھر اس کی عدت میں ایک اور طلاق دے دے تو عدت میں دی گئی ہر طلاق معتبر ہوگی۔
١٩٢٣٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم مثله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ بھی یونہی فرماتے ہیں۔
١٩٢٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو عصام رواد بن (الجراح) (١) عن الأوزاعي عن الزهري وعن مكحول وعطاء في الرجل يطلق امرأته تطليقة بائنة ثم يطلقها في عدتها (قال) (٢): يقع عليها الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے پھر اس کی عدت میں ایک اور طلاق دے دے تو عدت میں دی گئی ہر طلاق معتبر ہوگی۔
١٩٢٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن إسماعيل عن الشعبي عن شريح قال: يلزم المطلقة الطلاق في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے پھر اس کی عدت میں ایک اور طلاق دے دے تو عدت میں دی گئی ہر طلاق معتبر ہوگی۔
١٩٢٤٢ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص (بن غياث) (١) عن أشعث عن ابن سيرين عن شريح مثله] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے یونہی منقول ہے۔
١٩٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث عن الشعبي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عدت میں دی گئی طلاق معتبر ہے۔