١٩٠٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر وعبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه تجاوز لأمتي عما حدثت به أنفسها، ما (لم تتكلم) (١) به، أو (تعمل) (٢) به" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل کے خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک وہ ان تکلم نہ کریں یا اس کے تقاضے پر عمل نہ کرے۔
١٩٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن ابن سيرين والحسن أنهما قالا: [حديث النفس بالطلاق ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دل میں طلاق دینا کوئی چیز نہیں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس سے سوال نہ کیا جائے تو زیادہ اچھی بات ہے۔
١٩٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبد الرحمن) (١) بن مهدي عن جرير بن حازم عن إسماعيل بن آدم قال: سألت محمد بن سيرين عن الرجل يحدث نفسه بالطلاق قال: ليس حديث النفس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن آدم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص بیوی کو دل میں طلاق دے دے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دل میں کی گئی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
١٩٠٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن عبد الملك عن سعيد بن جبير مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٩٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عمرو بن دينار عن جابر بن زيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دل میں دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
١٩٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر عن ابن جريج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے یونہی منقول ہے۔
١٩٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: إذا (حدث) (١) نفسه بالطلاق أو (العتاق) (٢) فليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر دل میں طلاق دی یا آزاد کیا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔