کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {واھجروھن فی المضاجع} کی تفسیر کا بیان
١٨٥٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر بن عياش عن منصور عن مجاهد: ﴿وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾ [النساء: ٣٥]، قال: (١) لا (يقربها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَاہْجُرُوہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے قریب مت جاؤ۔
١٨٥٥٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي قوله: ﴿وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾ (قالا) (١): لا يضاجعها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَاہْجُرُوہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے ساتھ مت لیٹو۔
١٨٥٥٣ - حدثنا حفص عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) عن أبي الضحى عن ابن عباس: ﴿وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾، قال: إذا أطاعته في المضجع فليس له أن يضربها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَاہْجُرُوہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب عورت لیٹنے میں مرد کی اطاعت کرے تو وہ اسے مار نہیں سکتا۔
١٨٥٥٤ - [حدثنا يونس بن محمد قال: نا شريك عن (خصيف) (١) عن عكرمة ومقسم: (٢) قوله: ﴿وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ] (٣) وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ قال مقسم: (هجر المضجع) (٤) ولا (تقرب) (٥) فراشها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اور حضرت مقسم رحمہ اللہ سے قرآن مجید کی آیت { وَاہْجُرُوہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوہُنَّ } کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت مقسم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہجر مضجع سے مراد اس کے بستر کے قریب نہ جانا اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سے مراد بات کرنا ہے۔ جبکہ { واضْرِبُوہُنَّ } کے بارے میں دونوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ایسی مار ہے جو زخم نہ ڈالے۔
١٨٥٥٧ - حدثنا عفان عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن: ﴿وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ قال: (ضرب) (١) غير مبرح (غير مؤثر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { واضْرِبُوہُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی مار ہے جو زخم نہ ڈالے۔