کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
١٧٩٠٣ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن قتادة قال: كتبت إلى إبراهيم أسأله عن الرضاع فكتب إلي أن عليا وعبد اللَّه (كانا) (١) يقولان: قليله وكثيره حرام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو خط لکھا کہ وہ مجھے حرمت رضاعت کو ثابت کرنے والے دودھ کے متعلق بتادیں۔ تو انہوں نے میری طرف خط لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ما فرمایا کرتے تھے کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
١٧٩٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال ابن مسعود: يحرم قليل الرضاع كما يحرم كثيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تھوڑے یا زیادہ دودھ سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول مجھے زیادہ پسند ہے۔
١٧٩٠٦ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن عبد الرحمن (٢) بن (عابس) (٣) قال: ⦗٤٣٦⦘ سمعت ابن عباس (و) (٤) سئل عن (المرضعة) (٥) ترضع الصبي الرضعة، فقال: إذا (عقا) (٦) الصبي حرمت عليه وما ولدت (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت کسی بچے کو ایک چسکی دودھ پلائے تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب بچے نے منہ لگا لیا تو وہ عورت اور اس کی بیٹیاں اس کے لئے حرام ہوگئیں۔
١٧٩٠٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن حنظلة عن طاوس قال: اشترط عشر رضعات ثم قيل: إن الرضعة الواحدة تحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ پہلے حرمت رضاعت کے لئے دس چسکیوں کی شرط تھی، پھر کہا گیا کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
١٧٩٠٨ - حدثنا وكيع عن شعبة (عن) (١) الحكم وحماد (قالا) (٢): المصة تحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
١٧٩٠٩ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن حبيب عن طاوس قال: سألت ابن عباس فقال: المرة الواحدة تحرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
١٧٩١٠ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن أبي الزبير [قال: سألت ابن عمر فقال: المصة الواحدة تحرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
١٧٩١١ - حدثنا أبو داود (الطيالسي) (١) عن زمعة] (٢) عن ابن طاوس عن أبيه.
مولانا محمد اویس سرور
بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ دودھ تھوڑا پیے یا زیادہ حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔