کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیںہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
١٧٥٧٦ - حدثنا ابن علية عن سفيان عن أبي الزناد عن سليمان بن يسار عن زيد بن ثابت أن مروان سأله عنها فكرهها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا۔
١٧٥٧٧ - حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم عن سعيد بن المسيب قال: لا يتزوج حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ پانچویں سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا جب تک طلاق یافتہ کی عدت نہ گذر جائے۔
١٧٥٧٨ - حدثنا [حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن عبيدة في رجل طلق امرأته وله أربع نسوة قال: لا يحل له أن يتزوج الخامسة حتى تنقضي عدة التي طلق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
١٧٥٧٩ - حدثنا أبو بكر عن (عائذ) (١) بن حبيب عن حجاج عن الشعبي عن علي قال: لا يتزوج (خامسة) (٢) حتى تنقضي عدة التي طلق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
١٧٥٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا يتزوج حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی میراث یارجوع نہ ہو تو شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
١٧٥٨١ - (قال) (١) (عطاء) (٢): إذا لم يكن (بينهما) (٣) ميراث ولم يكن (عليها) (٤) رجعة فلا بأس أن (يتزوج) (٥).
١٧٥٨٢ - حدثنا عباد بن (عوام) (١) عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن رجل كان له أربع نسوة فطلق إحداهن ثلاثًا، (أيتزوج) (٢) الخامسة؟ قال: لا؛ حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک نکاح نہیں کرسکتا۔
١٧٥٨٣ - حدثنا [ابن علية عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا يتزوج حتى تنقضي عدة التي طلق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی میراث یارجوع نہ ہو تو شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
١٧٥٨٤ - وقال عطاء: إذا لم يكن بينهما ميراث ولم يكن له (عليها) (١) رجعة فلا بأس أن يتزوج.
١٧٥٨٥ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أنه كان يكره أن يتزوج حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
١٧٥٨٦ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم التيمي أن عتبة بن (أبي) (١) سفيان كانت عنده أربع نسوة فطلق إحداهن (ثم تزوج خامسة قبل أن تنقضي) (٢) عدة التي (طلق) (٣) فسأل مروان ابن عباس فقال: لا؛ حتى تنقضي عدة التي طلق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی سفیان کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ انہوں نے ایک کو طلاق دے کر اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں سے شادی کرلی۔ مروان نے اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ چوتھی کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں سے نکاح نہیں سکتا۔
١٧٥٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن أبي صادق قال: لا يتزوج خامسة حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صادق فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
١٧٥٨٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كانت تحت الرجل أربع نسوة فطلق إحداهن فلا يتزوج خامسة حتى تنقضي عدة التي طلق، فإن ماتت فإن شاء فليتزوج من يومه ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ اگر وہ مرجائے تو اس کا شوہر چاہے تو اسی دن بھی شادی کرسکتا ہے۔