کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن(سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے؟
١٧١٤٠ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن قيس بن (سعد) (١) عن عطاء (عن) (٢) ابن عباس قال: جاوز حرمتين إلى حرمة (ولم تحرم) (٣) عليه امرأته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سالی سے زنا کرنے والا بڑے گناہ کا مرتکب ہے لیکن اس کی بیوی حرام نہیں ہوگی۔
١٧١٤١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا زنى الرجل بأخت امرأته فإنها لا تحرم عليه، (لا يحرم) (١) حرام حلالًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زناکرے تو اس کی بیوی حرام نہیں ہوگی کیونکہ حرام کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرسکتا۔
١٧١٤٢ - حدثنا عبد الوهاب عن عثمان البتي عن ابن (أشوع) (١) أنه سئل عنها فقال: (لا يحرم) (٢) الحرام الحلال، (جسرت) (٣) عليها، وهابها إبراهيم والشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن أشوع سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی حرام چیز حلال کو حرام نہیں کرسکتی۔ میں نے تو یہ بات کہنے کی ہمت کی ہے ابراہیم اور حضرت شعبی یہ کہنے سے ڈرتے تھے۔۔
١٧١٤٣ - حدثنا (١) عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: (حرمت) (٢) عليه امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔
١٧١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) (سعيد) (٢) قال قتادة: لا يحرمها ذلك عليه، غير أنه لا يغشى امرأته حتى (تنقضي) (٣) عدة التي (باء) (٤) بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں بیوی حرام تو نہیں ہوگی البتہ وہ اپنی بیوی سے اس وقت جماع نہیں کرسکتا جب تک وہ عورت عدت نہ گزار لے جس سے اس نے جماع کیا ہے۔
١٧١٤٥ - [(١) حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد والحسن أنهما قالا: حرمت عليه امرأته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید اور حسن فرماتے ہیں کہ سالی سے زنا کرنے کی صورت میں بیوی حرام ہوجائے گی۔
١٧١٤٦ - [قال سعيد: قال قتادة: لا يحرمها ذلك عليه غير أنه لا يغشى امرأته حتى تنقضي عدة التي (باء) (١) بها].
١٧١٤٧ - [عبد الأعلى عن سعيد عن بعض أصحابه عن النخعي مثل قول قتاة وإن كانت حاملًا فحتى تضع حملها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نخعی بھی حضرت قتادہ کی طرح اس بات کے قائل ہے کہ مزنیہ سالی عدت گزارے گی اور وہ عدت وضع حمل تک ہوسکتی ہے۔
١٧١٤٨ - [حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن صاحب له عن عطاء قال: لا يحرمها ذلك عليه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔
١٧١٤٩ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد أنه بلغه (١) عن الشعبي قال: لا يحرمها ذلك عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔
١٧١٥٠ - حدثنا (أبو) (١) عبد الصمد العمي عن سعيد عن قتادة عن عمران بن حصين قال: حرمت عليه امرأته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام ہوجائے گی۔
١٧١٥١ - حدثنا (أبو) (١) عبد الصمد العمي عن سعيد عن قتادة عن يحيى بن يعمر عن ابن عباس قال: لم تحرم امرأته عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔