١٥٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: كنت (أكون) (١) مع سالم و (مع) (٢) عبد اللَّه بن (عبد اللَّه) (٣) فلم أرهما غسلا حصى الجمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں حضرت سالم اور حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ کے ساتھ تھا میں نے آپ دونوں کو جمرات کی کنکریاں دھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
١٥٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر قال: سألت الزهري أغسل حصى الجمار؟ قال؛ لا، إلا أن يكون فيه قذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے دریافت کیا رمی کرنے والا کنکریوں کو دھوئے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ہاں البتہ اگر کوئی نجاست وغیرہ ہو تو دھو لے۔
١٥٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) العقدي عبد الملك بن عمرو عن أفلح قال: كان القاسم يغسل حصى الجمار ويأخذه كما هو فيرمي به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم جمرات کی کنکریوں کو دھویا کرتے تھے اور پھر ان کو پکڑ کر رمی کرتے۔ ہاتھ دھویا کرتے تھے پھر وہ ان کنکریوں کو اسی طرح پکڑ لیتے اور رمی فرماتے ۔
١٥٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن مورع بن موسى (قال) (١): (سمعت) (٢) شيخًا يحدث أنه رأى سعيد بن جبير غسل حصى الجمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کنکریوں کو دھوتے تھے۔
١٦٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن جريج قال: سألت عطاء فقال: (لا) (١) تغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ مت دھوؤ۔
١٦٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان يغسل حصى الجمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ جمرات کی کنکریوں کو دھویا کرتے تھے۔