کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: محرم شخص اور محرمہ خاتون کا سرمہ استعمال کرنا
❮
❯
١٥٥١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: يكتحل المحرم بأي كحل (شاء) (١)، (ما) (٢) لم يكن فيه طيب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ محرم شخص خوشبو دار کے علاوہ جونسا چاہے سرمہ استعمال کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15517
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15517، ترقيم محمد عوامة 15082)
١٥٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عائشة ابنة طلحة عن عائشة أم المؤمنين، أنها كرهت للمحرمة أن تكتحل بالإثمد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا محرمہ عورت کے لیے اثمد سرمہ لگانے کو ناپسند فرماتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15518
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15518، ترقيم محمد عوامة 15083)
١٥٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن أبي إسحاق عن الضحاك عن ابن عباس قال: (إذا) (١) رمد المحرم فليكتحل (ولا يكتحل) (٢) بشيء فيه طيب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ محرم شخص کی اگر آنکھ دکھے تو وہ سرمہ لگا سکتا ہے، لیکن ایسا سرمہ استعمال نہ کرے جس میں خوشبو ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15519، ترقيم محمد عوامة 15084)
١٥٥٢٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور قال: قلت (لمجاهد) (١): ⦗٤٥١⦘ أتكتحل المحرمة بالإثمد؟ قال: لا، قلت: إنه ليس فيه طيب، قال: إنه فيه زينة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے عرض کیا کہ محرمہ خاتون اثمد سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی ؟ آپ نے فرمایا اس میں زیب وزینت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15520
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15520، ترقيم محمد عوامة 15085)
١٥٥٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن محمد بن عبد العزيز عن جابر بن زيد قال: تلبس المحرمة ما شاءت من الثياب من (شرقيها وغربيها) (١) ولا تكتحل بالإثمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید ارشاد فرماتے ہیں کہ محرمہ خاتون جو چاہے لباس پہنے مشرقی ہو یا مغربی، لیکن اثمد سرمہ نہ لگائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15521، ترقيم محمد عوامة 15086)
١٥٥٢٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن عبد العزيز قال: سألت جابر بن زيد عن المحرمة تكتحل بالأثمد؟] (١) فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے دریافت کیا کہ محرمہ اثمد سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15522
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15522، ترقيم محمد عوامة 15087)
١٥٥٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي قال: حدثنا يزيد بن إبراهيم عن قتادة قال: سألت امرأة عبد الرحمن بن أبي بكر وابن عمر (١) عن إمرأة محرمة اكتحلت بإثمد، فامرها عبد الرحمن بن أبي بكر (٢) تهريق دمًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک خاتون نے حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ محرمہ خاتون اثمد سرمہ لگا لے تو ؟ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر نے اس کو قربانی کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15523
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15523، ترقيم محمد عوامة 15088)
١٥٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: لا تكتحل إلا من رمد، ولا تكتحل (١) بكحل فيه طيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد ارشاد فرماتے ہیں کہ جس محرمہ کی آنکھ میں تکلیف ہو صرف وہ سرمہ لگائے اور ایسا سرمہ استعمال نہ کرے جس میں خوشبو ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15524
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15524، ترقيم محمد عوامة 15089)