١٥٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد وشهر قالا: لا بأس أن يغسل المحرم ثيابه ويأمر بها، (ويكرهان) (١) أن يغسلها هو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت شہر فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ محرم کپڑے دھوئے اور کپڑے دھونے کا حکم دے، جب کہ لیث اور جریر دھونے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٥٥١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل [عن (يزيد) (١) عن مجاهد عن ابن عباس قال: لا بأس أن (يغتسل المحرم، و) (٢) يغسل ثيابه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے۔
١٥٥١٢ - حدثنا أبو بكر] (١) قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن يغتسل المحرم من غير جنابة، ويغسل ثيابه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم شخص بغیر جنابت کے غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے۔
١٥٥١٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن طلحة عن عطاء قال: لا بأس أن يغسل المحرم ثيابه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ محرم اپنے کپڑے دھو لے۔
١٥٥١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور (عن سالم) (١) عن ابن عمر قال: إن اللَّه لا يصنع بدرنك شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میلا ہونے میں کوئی ثواب نہیں رکھا۔
١٥٥١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: لا بأس أن يغتسل المحرم، ويغسل ثيابه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم شخص غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے۔
١٥٥١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء (قيل) (١): أيغسل المحرم ثيابه؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کیا محرم شخص کپڑے دھو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔