١٥٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا فضيل بن عياض (عن هشام) (١) عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس أن يشم المحرم الريحان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محرم ریحان کی خوشبو سونگھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس أنه كان لا يرى (به) (١) بأسًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے سونگھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
١٥٢٢٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن نافع عن عطاء قال: لا بأس أن يشم (المحرم) (١) الريحان] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم ریحان کی خوشبو سونگھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن يوسف بن ماهك عمن رأى مع عبد اللَّه بن (عامر) (١) بعرفة في الحج (ريحانًا) (٢) وهو محرم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کیا جس نے عرفات میں حالت احرام میں عبداللہ بن عامر کے پاس ریحان خوشبو دیکھی۔
١٥٢٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا إبراهيم بن نافع عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا بأس أن يشم المحرم الريحان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرم ریحان خوشبو سونگھ لے اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٢٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن عطاء قال: لا بأس أن يشم المحرم (٢) (الإذخر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم اذخر خوشبو سونگھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٥٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: لا بأس أن يشم المحرم طيب نبات الأرض (وبعر الظباء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الاسود فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ محرم خوشبو والی بوٹی یا مشک سونگھ لے۔
١٥٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر وعطاء قالا: لا بأس أن يشم المحرم طيب نبات الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم خوشبو والی بوٹی سونگھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔