کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات حجر اسود کے استلام کے بعد اپنے ہاتھوں کو چومتے ہیں
١٥١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن عبيد اللَّه عن نافع قال: رأيت ابن عمر استلم الحجر (بيده) (١) وقبل يده، وقال: ما تركته (منذ) (٢) رأيت رسول اللَّه ﷺ يفعله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ نے حجر اسود کے استلام کے بعد ہاتھوں کو چوما اور فرمایا : میں نے جب سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی بھی اس فعل کو ترک نہیں کیا۔
١٥١٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: رأيت ابن عمر (وأبا سعيد) (١) وأبا هريرة إذا استلموا الركن يعني الحجر قبلوا أيديهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ جب حجر اسود کا استلام کرتے تو اپنے ہاتھوں کو چومتے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ؟ آپ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں رکن کو ہاتھ نہ لگاتا اگر میں اپنے ہاتھوں کو بوسہ نہ دیتا اور حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں جس نے رکن کو چھوا اور اپنے ہاتھوں کو نہ چوما اس نے بےرخی برتی۔
١٥١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن (جريج) (١) عن محمد بن المرتفع قال: رأيت ابن الزبير وعمر بن عبد العزيز استلما الحجر، فأما أحدهما فقبل يده، والآخر مسح بها وجهه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن المرتفع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کو دیکھا کہ آپ دونوں نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر ان میں سے ایک نے ہاتھوں کو چوما اور دوسرے نے اپنے چہرے پر اپنے ہاتھ مل لیے۔
١٥١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان وأبو أسامة عن هشام بن عروة قال: ما رأيت أبي استلم الحجر إلا قبل يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ انھوں نے حجر اسود کا استلام کیا ہو پھر ہاتھوں کو نہ چوما ہو۔
١٥١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل وعبدة عن عبد الملك قال: رأيت سعيد بن جبير يمسح الحجر ثم يقبّل يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کو دیکھا کہ آپ نے حجر اسود کو چھوا پھر اپنے ہاتھوں کو چوما۔