١٥١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: رأيت القاسم يتطوع بين الظهر والعصر بعرفة.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کو عرفات میں ظہر وعصر کے درمیان نفل پڑھتے ہوئے دیکھا، اور میں نے حضرت سالم کو دیکھا وہ نہ پڑھتے تھے۔
١٥١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان لا يتطوع بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس ظہر وعصر کے درمیان عرفات میں نفل نہ پڑھتے تھے۔
١٥١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر قال: صلى رسول اللَّه ﷺ الظهر والعصر بعرفة ولم يسبح (بينهما) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں ظہر وعصر کی نماز ادا فرمائی اور ان کے درمیان نفل نماز نہ پڑھی۔
١٥١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: (صل) (١) بين الظهر والعصر بعرفة إن شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو ظہر وعصر کے درمیان عرفات میں نفل پڑھ لو۔
١٥١٣١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن جريج عن عطاء قال: من صلى الصلاتين بعرفة لم يتطوع بينهما] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص عرفات میں ظہر وعصر کی نمازیں اکٹھی ادا کرے وہ ان کے درمیان نفل نہ پڑھے۔
١٥١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد (عن إبراهيم) (١) قال: إن أمكنك الإمام أن تطوع بينهما فتطوع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر امام نفل پڑھنے کا موقع دے تو ضرور پڑھو۔
١٥١٣٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أنس بن سيرين، قال: رأيت ابن عمر لا يتطوع بين الظهر والعصر بعرفة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ نے عرفات میں ظہر وعصر کے درمیان نفل نہ پڑھے، میں نے حضرت قاسم کو دیکھا انھوں نے نفل پڑھے۔
١٥١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد الرحمن ابن الأسود عن أبيه أنه كان يتطوع بين الظهر والعصر بعرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود عرفات میں ظہر وعصر کے درمیان نفل پڑھتے تھے۔