کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے
١٥٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص (سلام) (١) بن سليم عن ليث عن عبد الرحمن بن سابط قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من مات ولم يحج حجة الإسلام لم يمنعه مرض حابس أو حاجة ظاهرة أو سلطان جائر فليمت على أي حال شاء يهوديا أو نصرانيًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سابط سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس حال میں دنیا سے رخصت ہوا کہ اس نے حج فرض (حج اسلام) ادا نہ کیا، اور اس کو کسی بیماری، مجبوری یا ظالم بادشاہ نے بھی نہ روکا، تو وہ جس مرضی حال پر مرے، خواہ یہودی ہو کر خواہ نصرانی ہو کر۔
١٥٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن إبراهيم قال: قال الأسود لرجل منهم موسر: لو مت ولم تحج لم أصل عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الاسود نے ایک مالدار شخص سے فرمایا کہ اگر تو بغیر حج کیے مرگیا تو میں تیرا جنازہ نہ پڑھوں گا۔
١٥٠٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع بن الجراح عن سفيان عن (مجاهد) (١) بن رومي -وكان ثقة- قال: سألت سعيد بن جبير وعبد الرحمن بن أبي ليلى وعبد اللَّه بن (معقل) (٢) عن رجل مات ولم يحج وهو موسر؟ فقال سعيد: النار النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد بن رومی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر، حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اور حضرت عبد اللہ بن معقل سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج کیے بغیر مرجائے ؟ حضرت سعید نے فرمایا اس کے لیے آگ ہے، حضرت ابن معقل نے فرمایا وہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کا نافرمان ہے اور حضرت ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا کہ میں اگر اس کا ولی اس کی طرف سے حج ادا کر دے تو مجھے امید ہے (یعنی عذاب الٰہی سے بچ جائے گا) ۔
١٥٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي (العلاء) (١) عن سعيد بن جبير قال: لو كان لي جار (موسر) (٢) ثم مات ولم يحج، لم أصل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر میرا مالدار پڑوسی حج ادا کیے بغیر مرجائے تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں ادا کروں گا۔
١٥٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (ثوير) (١) عن مجاهد عن ابن عمر قال: من مات وهو موسر (لم يحج) (٢) جاء يوم القيامة وبين عينيه مكتوب كافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کوئی شخص صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج کیے بغیر مرجائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
١٥٠٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عدي (ابن) (١) (عدي عن) (٢) أبيه قال: قال عمر بن الخطاب: من مات وهو موسر لم يحج، فليمت على أي حال شاء، يهوديًا أو نصرانيًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس حال میں دنیا سے رخصت ہوا کہ اس نے حج فرض (حج اسلام) ادا نہ کیا، اور اس کو کسی بیماری، مجبوری یا ظالم بادشاہ نے بھی نہ روکا، تو وہ جس مرضی حال پر مرے، خواہ یہودی ہو کر خواہ نصرانی ہو کر۔
١٥٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن عدي (بن عدي) (١) (عن) (٢) الضحاك بن عبد الرحمن بن (عرزم) (٣) عن عمر مثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے اسی طرح مروی ہے۔