١٥٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مالك بن أنس (عن الزهري) (١) (عن أنس) (٢) أن النبي ﷺ دخل مكة وعليه (مغفر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر مبارک پر خود تھی۔
١٥٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم بن بشير عن شبيب بن حوشب عن القاسم قال: كان أصحاب محمد (ﷺ) (١) إذا أحرموا حملوا معهم السيوف في (القرب) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام جب احرام باندھتے تو تلواروں کو نیام میں رکھتے۔
١٥٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لم يكونوا يكرهون أن يسافروا بالسيوف في قربها وهم محرمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم سے مروی ہے کہ صحابہ کرام اس بات کو ناپسند نہیں کرتے تھے کہ وہ تلواروں کو نیام میں رکھ حالت احرام میں سفر کریں۔
١٥٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (شريك) (١) عن هشام (بن) (٢) عروة أن أباه كان (يدخل) (٣) الحرم (بسيفه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ حرم میں تلوار کے ساتھ داخل ہوتے تھے۔
١٥٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس أن يتقلد المحرم سيفه إذا خاف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم کو اگر کسی کا خوف ہو تو کوئی حرج نہیں کہ وہ تلوار لٹکا لے۔
١٥٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عطاء قال: لا يدخل (أحد) (١) مكة بسلاح في حج ولا عمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کوئی شخص بھی حج وعمرہ میں ہتھیار سمیت مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہو۔
١٥٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يزيد بن (١) إبراهيم قال: أحسب أني سمعت قيس بن سعد يقول: قال ابن عمر: المحرم لا يحمل السلاح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ محرم ہتھیار نہ اٹھائے۔
١٥٠١١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد وعطاء، قالا: لا يدخل المحرم بسلاح] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرم شخص ہتھیار کے ساتھ مکہ میں داخل نہ ہو۔
١٥٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية قال: سألت مولى لابن عمر عن موت ابن عمر، قال: أصابه رجل من أهل الشام بزج، فدخل عليه الحجاج (يعوده) (١)، فقال: لو أعلم من أصابك لفعلت وفعلت: قال: أنت أصبتني، أدخلت (السلاح الحرم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام سے آپ کی موت کی وجہ دریافت کی ؟ انھوں نے فرمایا کہ اھل شام میں سے ایک شخص کے تیر کا پھل آپ کو لگ گیا تھا، حجاج آپ کے پاس آپ کی عیادت کے لیے آیا، ایک شخص نے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ کو تکلیف پہنچے گی تو میں اس طرح اس طرح کرتا، آپ نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھے تکلیف دی ہے کہ تو حرم میں ہتھیار سمیت داخل ہوگیا۔
١٥٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد وليس بالأحمر عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي (السفر) (١) أنه دخل الحرم وعليه سيف متقلده، فلما دخل نزعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر حرم میں داخل ہوئے تو ان پر تلوار لٹک رہی تھی، جب وہ حرم میں داخل ہونے لگے تو تلوار اتار لی۔
١٥٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الصلت عن عقبة بن صهبان قال: رأيت عثمان بالأبطح، وإن فسطاطه مضروب، وإن سيفه معلق بالفسطاط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن صھبان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو مقام ابطح میں دیکھا، آپ کا خیمہ نصب تھا اور آپ کی تلوار خیمے میں لٹک رہی تھی۔