کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص حج کے احرام باندھنے کا ارادہ کرے پھر وہ عمرہ کا احرام باندھ لے
١٤٧٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عمر بن أبي عثمان عن طاوس [قال: بنيته] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں اس پر اس کی نیت ہے۔
١٤٧٠٩ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن سعيد وحفص عن ابن عون عن القاسم قال: نيته] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
١٤٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حضرت جابر اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ اس کی نیت کرنا ہے۔
١٤٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس قال: انطلقت معتمرًا في رجب، فأردت أن أهل بعمرة، فأهللت بالحج، فسألت سعيد بن جبير عن ذلك فضحك وقال: لا شيء عليك.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ میں ماہ رجب میں عمرہ کرنے کی نیت سے نکلا میں نے عمرے کا احرام باندھنے کا ارادہ کیا پھر میں نے حج کا احرام باندھ لیا، میں نے حضرت سعید بن جبیر سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ ہنس پڑے اور فرمایا تجھ پر کچھ نہیں ہے (گناہ اور دم وغیرہ) اور حسن نے بھی حضرت سعید بن جبیر کے قول کے مثل فرمایا۔
١٤٧١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن أشعث عن عطاء في رجل أراد العمرة فلبى بالحج (١) قال: ليس الحج عليه بواجب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو عمرہ کے ارادہ سے چلے لیکن وہ احرام اور تلبیہ حج کا کہے تو فرمایا اس پر حج کرنا واجب نہیں ہے۔