کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے روزے میں رخصت دی ہے اور ھدی کو لازم نہیں قرار دیتے
١٣٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (حاتم) (١) بن إسماعيل عن جعفر (٢) عن أبيه ⦗٤٩٠⦘ عن علي قال: (إن) (٣) فاته الصوم في العشر (تسحر) (٤) (ليلة) (٥) (الحصبة) (٦)، فصام ثلاثة أيام، وسبعة إذا رجع (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر دس دنوں میں روزے نہ رکھ سکے تو وہ حصبہ میں ٹھہرنے والی رات سحری کرے اور تین روزے رکھے، پھر واپس لوٹ کر سات روزے رکھے۔
١٣٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: من فاته ثلاثة أيام في الحج فليصم (١) أيام التشريق، فإنهن من الحج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص سے ایام حج میں روزے فوت ہوجائیں تو وہ ایام تشریق میں روزے رکھ لے، بیشک یہ بھی ایام حج میں سے ہیں۔
١٣٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة أو (عن) (١) عمرة عن عائشة (قالت) (٢): كانت ترخص للمتمتع أن يصوم أيام التشريق إذا لم (يصم) (٣) العشر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تمتع کرنے والے کو گنجائش دیتی ہیں کہ اگر وہ دس دنوں میں روزے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق میں روزے رکھ لے۔
١٣٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبدة بن سليمان عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن جبير قال: المتمتع إذا فاته الصوم أيام (العشر) (١) أطعم عن الثلاثة وصام السبعة إذا رجع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ تمتع کرنے والا اگر دس دنوں میں روزے نہ رکھ سکے تو تین روزوں کے بدلے کھانا کھلائے اور جب واپس جائے تو سات روزے رکھے۔
١٣٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا غندر عن شعبة عن عبد اللَّه بن عيسى قال: سمعته يحدث عن الزهري عن (عروة) (١) عن عائشة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تمتع کرنے والے کو ایام تشریق میں روزے رکھنے کی رخصت نہیں دیتے سوائے اس کے جو ھدی نہ پائے وہ رکھ سکتا ہے۔
١٣٤٥٢ - وعن سالم عن ابن عمر (قالا) (١): لم يرخص في أيام التشريق أن يصمن إلا لمن لم يجد الهدي (٢).