١٣٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو (عن) (١) عكرمة قال: لا يصوم (المتمتع) (٢) إلا في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حج تمتع کرنے والا روزے نہ رکھے مگر دس دنوں میں۔
١٣٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة (١) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: يصوم المتمتع إن شاء يومًا من شوال وإن شاء يومًا من ذي القعدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حج تمتع کرنے والا اگر چاہے تو شوال میں روزے رکھ لے اور اگر چاہے تو ذی القعدہ میں رکھ لے، حضرت طاؤس اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ متمتع روزہ نہ رکھے گا مگر دس دنوں میں۔
١٣٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (يحيى) (١) بن سعيد القطان عن ابن (جريج) (٢) عن نافع عن ابن عمر قال: لا يصوم المتمتع إلا وهو محرم، لا يقضي عنه إلا ذلك قلت: (يصومهن) (٣) في شوال؟ قال: (لا) (٤) إلا محرمًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمتع کرنے والا حالت احرام میں ہی روزے رکھے، اور انہی دنوں میں قضاء کرے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا وہ شوال میں رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، صرف احرام کی حالت میں ہی رکھے۔
١٣٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص بن غياث عن ليث عن طاوس وعطاء (قالا) (١): لا يصوم الثلاثة إلا في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ تین روزے صرف دس دنوں میں ہی رکھے، اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر وہ حج کے مہینوں میں رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔