١٢٠٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن سعيد عن (عمران بن حدير) (١) عن محمد أنه كره أن يعلم القبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ محمد قبر پر نشانی لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٢٠٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) أبو داود عن سليم (بن) (٢) (حيان) (٣) عن حماد عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يعلم الرجل قبره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم بن حیان، حضرت حماد اور ابراہیم قبر پر نشانی لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٢٠٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو بكر الحنفي عن كثير بن زيد عن المطلب ابن عبد اللَّه بن حنطب قال: لا مات عثمان بن مظعون دفنه رسول اللَّه ﷺ بالبقيع وقال لرجل: "اذهب إلى تلك الصخرة (فأتني) (١) بها حتى أضعها عند قبره حتى (أعرفه) (٢) بها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت المطلب بن عبد اللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جنت البقیع میں دفن فرمایا اور پھر ایک شخص سے فرمایا : فلاں چٹان کے پاس جا کر ایک پتھر لے کر آؤ تاکہ میں اس کو اس کی قبر پر بطور نشانی نصب کر دوں جس کی وجہ سے اس کو (بعد میں) ہم پہچان لیں۔
١٢٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو بكر الحنفي عن (أفلح) (١) [عن القاسم أنه أوصى قال: يا بني لا تكتب على قبري، ولا تشرفنه إلا (قدر) (٢) ما يرد عني الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے وصیت فرمائی کہ اے بیٹے ! میری قبر پر مت لکھنا، اور میری قبر کو زیادہ بلند نہ کرنا مگر اتنا کہ اس سے پانی ہٹ جائے، (پانی نہ روکے) ۔
١٢٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن ابن جريج] (١) عن ابن الزبير جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يبنى عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا، اور دوسری روایت میں آیا ہے اس پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔
١٢١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا زيد بن (حباب) (١) عن مبارك عن الحسن أنه كره أن يجعل اللوح على القبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک فرماتے ہیں کہ حسن قبر پر تختی لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٢١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) جرير عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يجعل على (القبر مسجدًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم قبر پر مسجد بنانے کو ناپسند فرماتے تھے۔