١١٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا شريك عن عثمان أبي اليقظان عن زاذان عن جرير رفعه قال: اللحد لنا والشق لغيرنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے مرفوعا مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لحد ھمارے لیے ہے اور شق ہمارے غیر کے لیے ہے۔
١١٩٨٠ - [حدثنا حفص عن أبيه قال: لحد لرسول اللَّه ﷺ] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد (بغلی قبر) بنائی گئی۔
١١٩٨١ - حدثنا حفص عن حجاج (عن) (١) نافع قال: لحد (لرسول) (٢) اللَّه ﷺ قبره ولأبي بكر وعمر ثم تفاخرتم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے لیے لحد قبر کھودی گئی، پھر تم نے اس پر فخر کیا۔
١١٩٨٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: دفن رسول اللَّه ﷺ في لحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لحد میں دفن کیا گیا۔
١١٩٨٣ - حدثنا جرير عن هشام (بن) (١) عروة عن فقهاء أهل المدينة قال: كان بالمدينة رجلان (يحفران) (٢) القبور قال: فكان أحدهما يشق والآخر يلحد، فلما توفي رسول اللَّه ﷺ قالوا: أيهما طلع فمروه (فليعمل) (٣) بعمله الذي كان يعمل، فطلع الذي كان يلحد فأمروه فلحد لرسول اللَّه ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فقہاء اھل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں دو شخص تھے جو قبریں کھودا کرتے تھے، ان میں سے ایک شق والی قبر بناتا تھا اور دوسرا لحد والی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو صحابہ کرام نے فرمایا جاؤ جا کر ان میں سے جو بھی نظر آئے اسے کہو کہ آ کر اپنا کام کرے۔ پھر وہ شخص آیا جو لحد کھودا کرتا تھا، صحابہ کرام نے اس کو حکم دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد کھودے۔
١١٩٨٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال: اجتمع أصحاب النبي ﷺ حين مات النبي ﷺ، فكان الرجل يلحد (والآخر) (١) يشق، فقالوا: اللهم (خير) (٢) له، فطلع الذي كان يلحد فلحد له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو تمام صحابہ کرام جمع ہوگئے، ایک شخص تھا جو لحد والی قبریں بناتا تھا اور دوسرا شخص شق والی قبریں، صحابہ کرام نے دعا فرمائی اے اللہ ! ان میں سے کسی ایک کو چن لے (اختیار فرما) تو جو شخص لحد والی قبریں کھودتا تھا وہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد والی قبر کھودی۔
١١٩٨٥ - [حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر (وسالم) (١) والقاسم قالوا: كان قبر النبي ﷺ وأبي بكر وعمر (جثا قبلة) (٢) (نصب) (٣) لهم اللبن (نصبا) (٤) ولحد لهم (لحدًا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر، حضرت سالم، اور حضرت قاسم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر کی مبارک قبور قبلہ کی طرف جھکی ہوئی (رخ قبلہ کی طرف ہیں) اور ان میں (کچی) اینٹیں نصب ہیں اور وہ لحد کی صورت میں کھو دی گئی ہیں۔
١١٩٨٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن نافع عن ابن عمر قال: لحد لرسول اللَّه ﷺ ولأبي بكر وعمر] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
١١٩٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: لحد لرسول اللَّه ﷺ لحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
١١٩٨٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره الشق في القبر ويقول: يصنع فيه لحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم شق والی قبر کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے بغلی قبر بنائی جائے۔
١١٩٨٩ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد أن (رسول اللَّه) (١) ﷺ لحدوا له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
١١٩٩٠ - حدثنا وكيع عن العمري عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے لیے بغلی قبر بنائی جائے۔
١١٩٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (١) عن [عامر قال: قال المغيرة بن شعبة: لحدنا للنبي ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد والی قبر بنوائی۔
١١٩٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المنهال عن] (١) زاذان عن البراء قال: كنا مع النبي ﷺ في جنازة فانتهينا إلى (قبر) (٢) (ولما) (٣) يلحد له (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت البراء فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے پھر ہم اس کی قبر تک آئے جب دیکھا تو اس کے لیے لحد کھودی گئی تھی۔
١١٩٩٤ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن أسامة عن الزهري عن أنس أن النبي ﷺ قال: "انظروا أيهم أكثر جمعًا للقرآن فقدموه في اللحد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غزوہ احد کے موقع پر) ارشاد فرمایا : دیکھو ان مں ے سے جس کو زیادہ قرآن پاک یاد تھا اس کو لحد میں مقدم رکھو۔
١١٩٩٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: ثنا عبد الرحمن بن عبد العزيز عن الزهري عن عبد الرحمن بن (كلعب) (١) بن مالك عن أبيه أن النبي ﷺ كان يجمع بين الرجلين والثلاثة في اللحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ، تین شخصوں کو لحد میں جمع فرمایا : (اکٹھا دفن کیا) ۔