١١٨٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر: أنه كان إذا صلى (على) (١) الجنازة رفع يديه فكبر فإذا فرغ سلم (على) (٢) (يمينه) (٣) واحدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز جنازہ ادا فرماتے تو تکبیر کہتے وقت رفع یدین فرماتے ، جب نماز سے فارغ ہوتے تو داہنی طرف صرف ایک سلام پھیرتے۔
١١٨٣٨ - حدثنا حفص بن غياث (عن حجاج) (١) عن عمير بن (سعيد) (٢) قال: صلّى عليٌّ على يزيد بن (المكفف) (٣) فكبر عليه أربعًا وسلم تسليمة (خفية) (٤) عن يمينه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور اس میں چار تکبیرات پڑھیں اور آہستہ آواز میں داہنی طرف صرف ایک سلام پھیرا۔
١١٨٣٩ - حدثنا وكيع والفضل بن دكين عن سفيان عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد عن ابن عباس: أنه كان يسلم على الجنازة تسليمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نمازجنازہ میں ایک سلام پھیرتے تھے۔
١١٨٤٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث قال: صليت (خلف عليّ) (١) على جنازة فسلم عن يمينه حين فرغ السلام عليكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں میں نے حضرت حارث کے پیچھے نماز جنازہ ادا کی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے داہنی جانب ایک سلام السلام علیکم کہتے ہوئے پھیرا۔
١١٨٤١ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن إبراهيم: أنه كان يسلم على الجنازة تسليمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا کرتے تھے۔
١١٨٤٢ - حدثنا جرير عن الشيباني عن عبد الملك بن (إياس) (١) عن إبراهيم قال: [(تسليم) (٢) السهو والجنازة واحد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سجدہ سہو اور نماز جنازہ میں ایک ہی سلام ہے۔
١١٨٤٣ - حدثنا حفص عن الشيباني عن عبد الملك بن إياس عن إبراهيم قال:] (١) يسلم على الجنازة تسليمة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں نماز جنازہ میں صرف ایک سلام پھیرو۔
١١٨٤٤ - [حدثنا وكيع عن (أبي) (١) هلال (بن) (٢) (مريد) (٣) قال: صليت خلف جابر بن زيد فسلم تسليمة أولها عن يمينه وآخرها عن شماله] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن مزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید کے پیچھے نماز جنازہ ادا کی، آپ نے پہلے داہنی جانب سلام پھیرا، پھر دوسرا سلام بائیں جانب پھیرا۔
١١٨٤٥ - (حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: صلى ابن سيرين فسلم تسلمة) (١) فأسمع على الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے نماز جنازہ پڑھائی اور بلند آواز سے ایک مرتبہ سلام پھیرا۔
١١٨٤٦ - حدثنا حفص بن غياث عن أبي (العنبس) (١) عن أبيه أنه قال: صليت ⦗٥٧⦘ خلف أبي هريرة على (جنازة) (٢) ص فكبر عليها (أربعًا) (٣) وسلم عن يمينه تسليمة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ ادا کی آپ نے اس میں چار تکبیریں کہیں اور داہنی جانب ایک سلام پھیرا۔
١١٨٤٧ - حدثنا وكيع (والفضل) (١) بن دكين عن سفيان عن منصور بن حيان عن سعيد بن جبير أنه: كان يسلم على الجنازة تسليمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور بن حیان فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نماز جنازہ پر ایک سلام پھیرتے۔
١١٨٤٨ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: يسلم تسليمة تلقاء وجهه ويرد من خلف الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ایک سلام میت کے چہرے کی طرف کر کے پھیرے اور مقتدی بھی سلام کو دہرائیں۔
١١٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد اللَّه بن نمير عن حويث قال: رأيت عامرًا صلى على (جنازة) (١) فسلم عن يمينه وعن (شماله) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حریث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر کو نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے دائیں اور بائیں سلام پھیرا۔
١١٨٥٠ - حدثنا يحيى بن آدم عن (قطبة) (١) عن الأعمش عن يحيى: أنه كان إذا صلى على جنازة سلم تسليمة واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ جب یحییٰ نماز جنازہ ادا فرماتے تو ایک سلام پھیرتے۔
١١٨٥١ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر قال: صليت مع (واثلة) (١) على ستين جنازة من الطاعون رجال وفساء فكبر أربع تكبيرات وسلم تسليمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت واثلہ کے ساتھ طاعون کے زمانے میں مردوں اور عورتوں کے ساٹھ جنازے پڑھے۔ آپ چار تکبیریں پڑھتے اور ایک سلام پھیرتے۔
١١٨٥٢ - حدثنا (زيد بن حباب) (١) قال: حدثني عبد اللَّه بن العلاء قال: صليت خلف مكحول على (جنازة) (٢) فسلم تسليمة عن يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن العلائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے داہنی جانب ایک سلام پھیرا۔
١١٨٥٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم قال: سألت غنيمًا (قلت) (١): أسلم في (الصلاة) (٢) على الجنازة؛ (قال) (٣): نعم ألست في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت غنیم سے دریافت کیا کیا میں نماز جنازہ میں سلام پھیروں۔ آپ نے فرمایا ہاں ! کیا تو نماز میں نہیں ہے ؟
١١٨٥٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن الحسن عن أبي الهيثم عن إبراهيم أنه كان يسلم على الجنازة عن يمينه وعن يساره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز جنازہ میں دائیں اور بائیں (دو ) سلام پھیرتے تھے۔