١١٥٣٤ - حدثنا وكيع عن حبيب بن (سليم) (١) عن بلال بن (يحيى) (٢) عن حذيفة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن النعي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازے کا اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔
١١٥٣٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (حمزة) (١) عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: النعي من أمر الجاهلية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جنازے کا اعلان کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
١١٥٣٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن أبي حيان عن أبيه قال: أوصى الربيع بن خثيم أن لا تشعروا بي أحدًا (و) (١) سلوني إلى (ربي) (٢) سلًّا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خیثم نے وصیت فرمائی، میرے (مرنے کی) کسی ایک کو بھی اطلاع نہ کرنا اور مجھے خفیہ طور پر (آرام سے) دفن کرنا۔
١١٥٣٧ - حدثنا (١) عبدة بن سليمان عن الزبرقان قال: سمعت أبا وائل [(عند) (٢) موته يقول: إذا أنا مت فلا تؤذنوا بي أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے موت کے وقت سنا وہ فرما رہے تھے کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے بارے میں کسی کو اطلاع مت دینا۔
١١٥٣٨ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن أبي إسحاق قال] (١): أوصى أبو ميسرة أخاه أن لا تؤذن بي أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ اپنے بھائی کو وصیت فرمائی کہ (میرے مرنے پر) کسی کو بھی اطلاع (اعلان) مت دینا۔ راوی ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے حضرت اسود کو بھی یہی وصیت فرمائی تھی۔
١١٥٤٠ - حدثنا وكيع عن محمد بن (قيس) (١) عن علي بن (مدرك) (٢) عن إبراهيم عن علقمة أنه أوصى أن لا (تؤذنوا) (٣) (لي) (٤) أحدًا فإني أخاف أن يكون النعي من أمر الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے مرنے پر تم کسی کو اطلاع مت دینا، بیشک مجھے خوف ہے کہ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
١١٥٤١ - حدثنا وكيع عن (أمي) (١) عن أبي الهيثم قال: قال إبراهيم: إذا كنتم أربعة فلا تؤذنوا أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم جنازے میں چار بندے ہو جاؤ تو پھر کسی کو اطلاع مت دو ۔
١١٥٤٢ - حدثنا أبو نعيم الفضل بن دكين عن إسرائيل عن (ثوير) (١) عن أبي جعفر أن علي بن حسين أوصى أن لا تعلموا بي أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے مرنے کی کسی کو بھی اطلاع مت دینا۔
١١٥٤٣ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم بن محمد عن (أبيه عن) (١) ابن عمر أنه كان إذا مات له ميت (تحين) (٢) به غفلة الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی شخص فوت ہوتا تو لوگوں کی غفلت کا انتظار فرماتے ۔
١١٥٤٤ - حدثنا المحاربي عن ليث عن خيثمة عن سويد بن غفلة قال: إذا أنا مت فلا تؤذنوا بي أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو اطلاع مت دینا۔
١١٥٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) هاشم بن القاسم قال: ثنا شعبة عن أبي التياح عن يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير عن مطرف (٢) أخيه أنه قال: لا تؤذنوا بجنازتي أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے یہں کہ میرے جنازے کی کسی کو اطلاع مت دینا۔
١١٥٤٦ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا شعبة عن أبي (حمزة) (١) عن أبيه قال: لا تؤذنوا بجنازتي أهل مسجدي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے جنازے کی اطلاع میری مسجد والوں کو مت دینا۔