١١٥٢٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة قال: كنا في جنازة فرفع ناس من القصاص أصواتهم فقال أبو قلابة: كانوا يعظمون الميت بالسكينة.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں شریک تھے، قصہ گو لوگوں میں سے بعض نے اپنی آواز کو بلند کیا تو حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ (صحابہ کرام ) خاموش رہ کر میت کی تعظیم کرتے تھے۔
١١٥٣٠ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن همام عن قتادة عن الحسن عن قيس بن عباد قال: كان أصحاب محمد ﷺ يستحبون خفض (الصوت) (١) عند ثلاث عند القتال وعند القرآن وعند الجنائز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد ارشاد فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام تین موقعوں پر آواز پست رکھنے کو پسند فرماتے تھے، قتال کے وقت، تلاوت قرآن کے وقت اور جنازے میں۔
١١٥٣١ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن الحسن عن قيس بن (عباد) (١) قال: كان أصحاب النبي ﷺ فذكر نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عباد سے اسی طرح منقول ہے۔
١١٥٣٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا كان في جنازة أكثر السكوت وحدث نفسه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی جنازے میں شریک ہوتے تو زیادہ خاموش رہتے اور اپنے نفس سے ہم کلام رہتے۔
١١٥٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن أن النبي ﷺ كان يكره (٢) الصوت عند ثلاث: عند الجنازة، وإذا التقى (الزحفان) (٣)، وعند قراءة القرآن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین موقعوں پر آواز بلند کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے، جنازہ میں، جب دو لشکر آپس میں ملیں اور قرآن پاک کی تلاوت کے وقت۔