١١٢٨٦ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن عبد اللَّه بن (شداد) (١) أن أبا بكر أوصى أسماء بنت عميس أن تغسله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت اسماء ابنۃ عمیس کو وصیت فرمائی تھی کہ ان کو غسل وہ دیں۔
١١٢٨٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن ابن أبي مليكة أن أبا بكر (الصديق) (١) حين حضرته الوفاة أوصى أسماء (بنت) (٢) عميس أن تغسله، وكانت صائمة فعزم (عليها) (٣) (لتفطرن) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے حضرت ابوبکر صدیق کی وفات کا وقت جب قریب آیا آپ نے حضرت اسماء بنت عمیس کو وصیت فرمائی کہ ان کو غسل دیں، وہ اس وقت نفلی روزے سے تھیں۔ آپ نے انہیں روزہ توڑنے کا حکم دیا۔
١١٢٨٨ - حدثنا وكيع بن (الجراح) (١) عن أبي هلال عن صالح الدهان أو (حيان) (٢) الأعرج عن جابر بن زيد أنه أوصى أن تغسله امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کو ان کی اہلیہ غسل دیں۔
١١٢٨٩ - [حدثنا إسماعيل بن عياش عن (بشر) (١) بن عبد اللَّه بن يسار قال: سمعت سليمان بن موسى يقول: تغسله] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن موسیٰ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ وہ اس کو غسل دے گی۔
١١٢٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان اور حضرت حماد ارشاد فرماتے ہیں کہ میاں، بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کو غسل دے سکتا ہے۔
١١٢٩٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن محمد بن عمرو بن عطاء عن أبي سلمة في الرجل يموت مع النساء قال: تغسله امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آدمی اگر عورتوں کے ساتھ مرجائے تو اس کو اس کی بیوی غسل دے گی۔
١١٢٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن عطاء قال: تغسل المرأة زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے گی۔
١١٢٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان (١) (عن إبراهيم) (٢) بن مهاجر (عن إبراهيم) (٣) أن أبا موسى غسلته امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو ان کی اہلیہ نے غسل دیا۔