کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: میت کو غسل دینے کے بعد اگر اس سے کچھ (گندگی) نکلے اس کا بیان
١١٢٤٢ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن قال: كان يقول في الميت إذا خرج منه الشيء بعد غسله قال: يغسل ما خرج منه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے پوچھا گیا کہ میت کو غسل دینے کے بعد اگر کچھ گندگی نکلے تو ؟ تو آپ نے فرمایا جو گندگی نکلے اس کو دھویا جائے گا، اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں دو بارہ غسل دیا جائے گا۔
١١٢٤٤ - حدثنا هشيم عن (سليمان) (١) التيمي عن ابن سيرين قال: يغسل مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دو بار غسل دیا جائے گا۔
١١٢٤٥ - حدثنا هشيم عن بعض الكوفيين عن الشعبي مثل قول الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے بھی حسن کے مثل فرمایا ہے۔
١١٢٤٦ - حدثنا غندر عن شعبة قال: قلت لحماد: (الميت) (١) إذا خرج منه الشيء بعد ما يفرغ منه قال: يغسل ذلك المكان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے پوچھا میت کو غسل دینے کے بعد اگر کچھ گندگی نکلے ؟ آپ نے فرمایا (صرف) اس جگہ کو دھویا جائے گا۔
١١٢٤٧ - حدثنا يزيد (بن هارون) (١) (عن) (٢) هشام عن الحسن قال: إذا خرج منه شيء أجري عليه الماء ولم (يعد) (٣) وضوؤه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب غسل دینے کے بعد کوئی گندگی نکلے تو اس پر پانی بہایا جائے گا اور وضو (غسل) کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔
١١٢٤٨ - حدثنا يزيد عن التيمي عن يونس في الميت يخرج منه الشيء بعد الغسل قال: يعاد عليه الغسل مرتين فإن خرج منه شيء أعيد عليه الغسل مرتين إلى (سبع) (١) مرات إلا أن يخافوا أن يسترخي فيفسد عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ میت کہ غسل دینے کے بعد اگر کچھ گندگی نکلے تو پھر دوبارہ غسل کا اعادہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سات مرتبہ اسی طرح اعادہ کیا جائے گا، ہاں اگر خوف ہو کہ اس کے اعضاء ڈھیلے ہو کر فاسد ہوجائیں گے تو (پھر اعادہ نہیں کریں گے) ۔