١٠٣٣٢ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (٢) أذينة ⦗٢١٨⦘ سمع ابن عباس قال: ليس العنبر بركاز وإنما هو شيء دسره البحر (ليس فيه شيء) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اذینہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ عنبر خزانہ نہیں ہے، بیشک عنبر وہ چیز ہے جس کو سمندر ساحل پہ پھینک دے، اس میں کچھ لازم نہیں۔
١٠٣٣٣ - [حدثنا وكيع عن سفيان الثوري عن عمرو عن أذينة عن ابن عباس قال: ليس في العنبر زكاة (١) إنما هو شيء دسره البحر] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ عنبر میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ عنبر وہ ہے جسے سمندر ساحل پر پھینک دے۔
١٠٣٣٤ - حدثنا وكيع عن إبراهيم (بن إسماعيل عن أبي الزبير) (١) عن جابر قال: ليس في العنبر زكاة إنما هو غنيمة (لمن أخذه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ عنبر میں زکاۃ نہیں ہے۔ یہ تو جو اس کو حاصل کرلے اس کے لیے غنیمت ہے۔
١٠٣٣٥ - حدثنا ابن عيينة عن معمر (أن) (١) عروة بن محمد كتب إلى عمر بن عبد العريز في عنبرة (فيها) (٢) سبعمائة (رطل) (٣) فقال: فيها الخمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن محمد نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ عنبر میں سات سو رطل ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس پر خمس (پانچواں حصہ) لیا جائے گا۔
١٠٣٣٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث أن عمر بن عبد العريز خمس (العنبر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز عنبر پر خمس وصول فرماتے تھے۔
١٠٣٣٧ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن قال: كان يقول في العنبر الخمس، و (كذلك) (١) كان يقول في اللؤلؤ.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عنبر میں خمس ہے اور ہیروں سے متعلق بھی یہی فرماتے ہیں۔
١٠٣٣٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: (سأل) (١) إبراهيم بن (سعد) (٢) (ابن عباس) (٣) عن العنبر فقال: إن كان فيه شيء ففيه الخمس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن سعد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر خمس ہے۔
١٠٣٣٩ - حدثنا وكيع عن سفيان الثوري عن ابن طاوس عن أبيه أن ابن عباس سئل عن العنبر فقال: إن كان فيه شيء ففيه الخمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اس میں خمس ہے۔
١٠٣٤٠ - حدثنا وكيع قال: كان سفيان يقول: ليس في العنبر ولا في العسل ولا في الأوقاص زكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان ارشاد فرماتے ہیں کہ عنبر میں، شہد میں اور اوقاص میں (درمیانی عدد میں) زکوٰۃ نہیں ہے۔