کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے روزہ دار کے لئے بیوی کا بوسہ لینے کی اجازت دی ہے
٩٦٤١ - حدثنا أبو الأحوص عن (زياد) (١) بن علاقة عن عمرو بن ميمون عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يقبل في شهر الصوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں بوسہ لیا کرتے تھے۔
٩٦٤٢ - حدثنا شريك عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يقبل بعض نسائه وهو صائم فضحكت فظننا أنها هي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔ یہ فرما کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرائیں جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ زوجہ آپ ہی ہوں گی۔
٩٦٤٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود وعلقمة عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يقبل وهو صائم ويباشر وهو صائم ولكنه كان أملككم لإربه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے اور اپنی بیوی کے ساتھ معانقہ وغیرہ بھی کرتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کیفیات پر تم سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
٩٦٤٤ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن قابوس عن أبيه عن علي قال: لا بأس بالقبلة للصائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے لئے بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٦٤٥ - حدثنا وكيع (١) عن عبد اللَّه بن (مبشر) (٢) عن زيد (أبي) (٣) (عتاب) (٤) قال: سئل (سعيد) (٥) عن القبلة للصائم؛ فقال: إني (لآخذ به) (٦) منها وأنا صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید ابی عتاب فرماتے ہیں کہ حضرت سعد سے روزہ دار کے لئے بوسہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں روزہ کی حالت میں ایسا کرتا ہوں۔
٩٦٤٦ - حدثنا ابن مبارك عن خالد الحذاء عن أبي المتوكل عن أبي سعيد أنه سئل عن القبلة للصائم فقال: لا بأس بها ما لم يعد ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روزے کی حالت میں بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس سے آگے نہ بڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
٩٦٤٧ - حدثنا جرير عن منصور (عن) (١) أبي الضحى عن (شتير) (٢) بن شكل عن حفصة بنت عمر قالت: كان النبي ﷺ يقبل وهو صائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیا کرتے تھے۔
٩٦٤٨ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى (عن) (١) عبد اللَّه بن فروخ عن أم سلمة قالت: كان النبي ﷺ يقبلني وأنا صائمة وهو صائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا بوسہ لیا کرتے تھے حالانکہ میرا بھی روزہ ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی روزہ ہوتا تھا۔
٩٦٤٩ - حدثنا ابن علية عن (حبيب) (١) بن شهاب عن أبيه عن أبي هريرة قال: سئل عن القبلة للصائم فقال: (لا بأس) (٢) إني أحب أن (أرفَّ شفتيها) (٣) وأنا صائم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روزہ دار کے لئے بوسہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ روزے کی حالت میں ہونٹوں کو ہونٹوں میں رکھوں۔
٩٦٥٠ - [حدثنا ابن علية عن هشام (١) الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن زينب بنت أم سلمة عن أم سلمة قالت: كان النبي ﷺ يقبلها وهو صائم] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لیا کرتے تھے۔
٩٦٥١ - حدثنا حفص عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عباس أنه سئل عن القبلة للصائم فقال: (لا بأس بها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں بوسے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٩٦٥٢ - حدثنا حفص عن عاصم عن مورق قال: سألت ابن عباس عن القبلة للصائم فرخص فيها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں بوسے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی رخصت دے دی۔
٩٦٥٣ - حدثنا عباد بن العوام عن الشيباني قال: سألت عكرمة والشعبي ⦗٣١⦘ عن (القبلة والمباشرة) (١) للصائم (فرخصا فيهما) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت شعبی سے روزے کی حالت میں بوسے اور معانقہ وغیرہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کی رخصت دے دی۔
٩٦٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني قال: سألت سعيد بن جبير عن القبلة (للصائم) (١) فقال: لا بأس بها وإنها (لبريد) (٢) سوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے روزہ دار سے بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک براڈا کیا ہے۔
٩٦٥٥ - حدثنا وكيع عن الوليد (بن عبد اللَّه) (١) بن جميع قال: سألت (أبا سلمة) (٢) عن القبلة للصائم فقال: إني لأقبل الكلبية وأنا صائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن جمیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسلمہ سے روزہ دار کے بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں روزے کی حالت میں کلبیہ (ام حسن بنت سعد بن اصبغ) کا بوسہ لیتا ہوں۔
٩٦٥٦ - حدثنا وكيع عن زكريا عن العباس بن ذريح عن عامر (عن) (١) محمد (ابن) (٢) الأشعث عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ لا يمتنع من وجهي وأنا صائمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے چہرے سے گریز نہ فرمایا کرتے تھے حالانکہ میرا روزہ ہوتا تھا۔
٩٦٥٧ - حدثنا شبابة عن ليث عن بكير بن الأشج عن عبد الملك بن سعيد الأنصاري عن جابر بن عبد اللَّه عن عمر بن الخطاب قال: هششت إلى المرأة فقبلتها وأنا صائم قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أرأيت لو تمضمضت (بماء) (١) ⦗٣٢⦘ وأنت صائم"، قال: قلت: لا بأس قال: " (ففيم) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابربن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنی بیوی کو دیکھ کر رہا نہیں گیا اور میں نے روزے کی حالت میں اس کا بوسہ لے لیا، اب کیا کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم روزے کی حالت میں کلی کرسکتے ہو ؟ حضرت عمر نے فرمایا جی ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بیوی کا بوسہ لینے میں کیا حرج ہے ؟
٩٦٥٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر (١) قال: (حدثنا) (٢) سعيد (بن مردانبة) (٣) عن أبي كثير عن أم سلمة زوج النبي ﷺ أنها قالت له: لو دنوت لو قبلت (وكان تزوج) (٤) في رمضان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کثیر فرماتے ہیں کہ ان کی رمضان میں شادی ہوئی۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم اپنی بیوی سے ملاعبت کرنا چاہو یا اس کا بوسہ لینا چاہو تو ایسا کرسکتے ہو۔
٩٦٥٩ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن أبي بكر (بن) (١) محمد (عن) (٢) عبد اللَّه (بن عبد اللَّه) (٣) بن عمر أن عاتكة بنت زيد امرأة عمر بن الخطاب قبلته وهو صائم فلم ينهها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عاتکہ بنت زید جو کہ حضرت عمر بن خطاب کی بیوی تھیں، انہوں نے روزے کی حالت میں حضرت عمر کا بوسہ لیا، حضرت عمر نے انہیں منع نہیں کیا۔
٩٦٦٠ - حدثنا حميد عن حسن بن صالح عن أبيه عن الشعبي عن مسلم بن حيان عن مسروق في القبلة للصائم فقال: ما أبالي قبلتُها أو قبلتُ يدي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ میرے نزدیک اس کا بوسہ لینا یا ہاتھ کا بوسہ لینا ایک جیسا ہے۔