٩٤٥١ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن المسيب بن رافع قال: قال أبو هريرة: إذا أفطر الصائم (فتمضمض) (١) فلا يمجه (٢) لكن (يسترطه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ روزہ دار جب افطار کے وقت کلی کرے تو اسے باہر نہ تھوکے بلکہ نگل لے۔
٩٤٥٢ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن ذلك (فقال) (١): (لا) (٢) بأس به أن يمجه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے باہر تھوکنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤٥٣ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن عطاء قال: قال عمر ﵁: لا تزال هذه الأمة بخير ما عجلوا الفطر، فإذا كان يوم صوم أحدكم فمضمض فاه فلا يمجه، ولكن (ليشربه) (١) فإن خيره أوله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک افطار میں جلدی کرتی رہے گی۔ اگر کسی کا روزہ ہو تو وہ افطار کے وقت کلی کرکے اسے باہر نہ پھینکے بلکہ نگل لے کیونکہ اس کا اول حصہ خیر ہے۔
٩٤٥٤ - حدثنا ابن علية عن ابن جريج عن عطاء أنه كان يكره أن (يتمضمض) (١) عند الإفطار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء افطاری کے وقت کلی کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٩٤٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن جابر) (١) عن عامر قال: لا بأس بالمضمضة عند الإفطار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ افطاری کے وقت کلی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٤٥٦ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان يكره أن (يتمضمض) (١) الرجل إذا أفطر إذا أراد أن يشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی افطاری کے وقت جب کوئی چیز پینے لگے تو کلی کرے۔
٩٤٥٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم أنه (سئل) (١) عن الصائم (يتمضمض) (٢) فكره (له) (٣) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روزہ دار کی کلی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
٩٤٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن مغول عن أبي إسحاق (عن) (١) الشعبي أنه كره للصائم أن يمضمض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے روزہ دار کے لئے کلی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔