٨١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص عن عاصم عن أبي عثمان قال: قال بلال: يا رسول اللَّه لا تسبقني بآمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہم سے پہلے آمین نہ فرمائیں۔
٨١٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري (عن سعيد) (١) (عن) (٢) أبي هريرة (رفعه) (٣) قال: إذا أمَّن القارئ فأمنوا، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے تو اس کے گذشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
٨١٧٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن عبد (١) الجبار بن وائل عن أبيه قال: صليت خلف النبي ﷺ فلما قال: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ (قال) (٢): "آمين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، جب آپ نے { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہا تو آمین بھی کہا۔
٨١٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن حجر بن عنبس عن وائل بن حجر قال: سمعت النبي ﷺ قرأ: ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فقال: "آمين" يمد بها صوته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے { وَلاَ الضَّالِّینَ } پڑھا تو آمین کہا اور یہ کہتے ہوئے آواز کو لمبافرمایا۔
٨١٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة أن (جبريل) (١) ﵇ (٢) أقرأ النبي ﷺ فاتحة الكتاب فلما قال: ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ ⦗٢٢٢⦘ قال: "قل: آمين، (فقال: آمين) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت جبریل نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورة الفاتحہ پڑھائی اور جب انہوں نے { وَلاَ الضَّالِّینَ } کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ آمین کہیں۔ چناچہ آپ نے آمین کہا۔
٨١٧٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (كثير بن (زيد)) (١) (٢) عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة أنه كان (مؤذنًا) (٣) بالبحرين فقال للإمام: لا تسبقني بآمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن رباح فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ بحرین میں مؤذن تھے، انہوں نے وہاں امام سے فرمایا کہ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کرو۔
٨١٧٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا فطر قال: سمعت عكرمة يقول: أدركت الناس ولهم (رجة) (١) في مساجدهم بآمين إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ (وَلَا الضَّالِّينَ) (٢)﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب وہ امام کے { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہنے پر آمین کہتے تو ایک گونج ہوا کرتی تھی۔
٨١٧٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا قال: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ " (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو تم آمین کہو۔
٨١٧٩ - حدثنا أبو أسامة (عن سعيد) (١) عن قتادة عن يونس بن جبير عن حطان ابن عبد اللَّه عن أبي (موسى) (٢) عن النبي ﷺ بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٨١٨٠ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى قال: كان الربيع بن (خثيم) (١) إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فقال: اللهم اغفر لي آمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یعلیٰ فرماتے ہیں کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہتا تو حضرت ربیع بن خثیم کہتے : اے اللہ ! مجھے معاف فرمادے، آمین۔
٨١٨١ - حدثنا وكيع قال: ثنا يونس عن أبي إسحاق عن بكر بن (ماعز) (١) عن الربيع بن (خثيم) (٢) قال: إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فاستعن من (الدعاء) (٣) بما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو جیسی دعا چاہو اس کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو۔
٨١٨٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: كان يستحب إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ أن يقال: اللهم اغفر لي آمين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو یہ کہا جائے : اے اللہ مجھے معاف فرما، آمین۔
٨١٨٣ - حدثنا غندر (عن) (١) شعبة عن الحكم قال: صليت خلف أبي عبد اللَّه الجدلي فلما قال: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ (٢) قال: كفى باللَّه هاديا ونصيرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ جدلی کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہا تو پھر یہ کہا : اللہ تعالیٰ ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔
٨١٨٤ - [حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن يونس عن مجاهد قال: إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فقل: اللهم إني أسالك الجنة وأعوذ بك من النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو اس وقت یہ کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔
٨١٨٥ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال بن يساف قال: آمين اسم من أسماء اللَّه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
٨١٨٦ - [حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن هلال بن يساف مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی منقول ہے۔
٨١٨٧ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن طارق عن حكيم بن جابر قال: آمين اسم من أسماء اللَّه (تعالى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
٨١٨٨ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: آمين اسم من أسماء اللَّه (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
٨١٨٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع عن عطاء قال: لقد كان لنا دوي في مسجدنا هذا بآمين إذا قال (الإمام) (١) ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہتا تو ہمارے آمین کہنے کی آواز مسجد میں گونجا کرتی تھی۔
٨١٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن رجل عن معاذ أنه كان إذا ختم البقرة قال: آمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ جب سورة البقرۃ ختم کرتے تو آمین کہا کرتے تھے۔
٨١٩١ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن أبي حمزة مولى المهلب أنه صلى إلى جنب سعيد بن جبير فلما قال: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ قال: آمين، أو شيئا هذا معناه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفربن برقان کہتے ہیں کہ ابو حمزہ مولی مہلب نے حضرت سعید بن جبیر کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہا تو انہوں نے آمین یا اس جیسا کوئی لفظ کہا۔
٨١٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد أن أبا هريرة كان مؤذنا بالبحرين فقال للإمام: لا تسبقني بآمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ بحرین میں مؤذن تھے انہوں نے امام سے فرمایا کہ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کرو۔
٨١٩٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن رجل أن معاذا كان إذا قرأ آخر البقرة: ﴿فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾، قال: آمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ نے سورة البقرۃ ختم کرتے ہوئے جب { فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ } کہا تو آمین کہا۔
٨١٩٤ - حدثنا ابن عيينة قال: لعله عن ابن جريج عن عطاء عن (ابن) (١) الزبير قال: كان (للمسجد) (٢) (رجة) (٣) أو قال: لجة إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾، (بقول آمين) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } کہتا تو مسجد میں آمین کہنے کی ایک آواز گونجا کرتی تھی۔