٨١٩٥ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن (ابن) (١) أبي سعيد الخدري عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا (تثاءب) (٢) أحدكم في الصلاة فليكظم ما استطاع فإن الشيطان يدخل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اسے روکنے کی کوشش کرے کیونکہ اس سے شیطان منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
٨١٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (فزارة) (١) العبسي عن يزيد بن الأصم قال: ما (تثاءب) (٢) رسول اللَّه ﷺ في الصلاة قط] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی نماز میں جمائی نہیں لی۔
٨١٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور (عن) (١) هلال بن يساف عن عطاء عن ابن عباس قال: إذا (تثاءب) (٢) أحدكم في الصلاة فليضع يده على فيه (٣). - بمثل حديث سفيان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے۔
٨١٩٨ - حدثنا (عبدة) (١) عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (٢) عن علي قال: التثاؤب في الصلاة من الشيطان، وشدة العطاس والنعاس (عند) (٣) الموعظة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جمائی آنا اور موعظت کے وقت زیادہ چھینکیں اور نیندآنا شیطان کی طرف سے ہے۔
٨١٩٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد (عن) (١) (أبي) (٢) ظبيان عن ابن مسعود قال: التثاؤب في الصلاة والعطاس من الشيطان (فتعوذوا) (٣) باللَّه منه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ نماز میں جمائی اور چھینک آنا شیطان کی طرف سے ہے، اس سے اللہ کی پناہ مانگو۔
٨٢٠٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: إني لأدفع التثاؤب في الصلاة بالتنحنح.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نماز میں گلا صاف کرکے جمائی کو روکتا ہوں۔
٨٢٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: إذا (تثاءب) (١) في الصلاة ضم شفتيه ومسح (أنفه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی کو نماز میں جمائی آئے تو وہ اپنے ہونٹوں کو ملائے اور اپنے ناک کو ہاتھ لگائے۔
٨٢٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن ابن يزيد قال: نبئت أن للشيطان قارورة يشمها القوم في الصلاة كي (يتثاءبوا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ شیطان کے پاس ایک شیشی ہے جسے وہ جمائی لانے کے لئے لوگوں کو سونگھاتا ہے۔
٨٢٠٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا الربيع عن أبي معشر عن إبراهيم قال: يرد الرجل التثاوب في الصلاة ما استطاع فإن غلبه وضع يده على فيه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے آدمی نماز میں جمائی کو روکے، اگر اس کا روک ناممکن نہ ہو تو ہاتھ کو منہ پر رکھے۔
٨٢٠٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: التثاؤب في الصلاة من الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نماز میں جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہے۔
٨٢٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: إن للشيطان قارورة فيها نفوخ، فإذا قاموا إلى الصلاة انتشقوها، فأمروا عند ذلك بالاستنثار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ شیطان کے پاس ایک شیشی ہے، جب لوگ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں وہ انہیں سونگھاتا ہے۔ اسی لئے یہ حکم دیا گیا کہ نماز سے پہلے ناک کو صاف کیا جائے۔
٨٢٠٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو معشر عن سعيد (المقبري) (١) عن أبي هريرة قال: إن اللَّه يكره التثاؤب ويحب العطاس في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نماز میں جمائی کو ناپسند اور چھینک کو پسند فرماتے ہیں۔
٨٢٠٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: إذا (تثاءب) (١) في الصلاة فليمسك عن القراءة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو وہ قراءت سے رک جائے۔
٨٢٠٨ - حدثنا أبو خالد وليس بالأحمر عن جرير بن حازم عن يعلى بن حكيم عن عكرمة قال: إذا (تثاءب) (١) أحدكم وهو يقرأ فليمسك عن القراءة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو قراءت کرتے ہوئے جمائی آئے تو وہ قراءت سے رک جائے۔