٦٧١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ليث أنه رأى مجاهدًا (يتروّح) (١) في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو نماز میں پنکھے کی ہوا لیتے دیکھا ہے۔
٦٧١٣ - حدثنا وكيع عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي السفر قال: أدركنا أشياخ الحي والشباب يروحونهم في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے علاقے کے کچھ بزرگوں کو دیکھا کہ نوجوان دورانِ نماز انہیں پنکھوں سے ہوا دیا کرتے تھے۔
٦٧١٤ - حدثنا معن بن عيسى عن عبيدة (ابنة) (١) نابل (٢) (مولاة) (٣) عائشة ابنة سعد (قالت: رأيت عائشة ابنة سعد) (٤) تنفض درعها في الصلاة (أي تروح به) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ بنت نابل کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد کو دوران نماز دوپٹے سے ہوا لیتے دیکھا ہے۔
٦٧١٥ - [حدثنا زيد بن حباب عن هارون بن إبراهيم عن ابن سيرين قال: لا بأس (بالتروح) (١) في الصلاة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ دوران نماز پنکھا جھلنے میں کوئی حرج نہیں۔
٦٧١٦ - حدثنا وكيع عن (١) مبارك عن الحسن أنه كرهه عبثًا ولم ير به (في شدة الحر) (٢) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس عمل کو ایک غیر ضروری امر قرار دیتے تھے البتہ شدید گرمی میں اس کے جواز کے قائل تھے۔