کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: نماز کے اندر پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کا بیان
❮
❯
٦٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن سعيد بن جبير قال: ما أبالي نفخت في الصلاة أو تكلمت (وقال) (١): النفخ في الصلاة (كلام) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنا اور بات کرنا برابر ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنا بات کرنے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6699
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6699، ترقيم محمد عوامة 6600)
٦٧٠٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره النفخ في الصلاة وقال: نحه بثوبك أو بكم قميصك، وكره النفخ.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ اپنے کپڑے یا آستین سے صاف کرلو لیکن پھونک کے ذریعے کوئی چیز منہ سے نکالنا مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6700
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6700، ترقيم محمد عوامة 6601)
٦٧٠١ - حدثنا هشيم عن الشيباني عن بن أبي الهذيل قال: لأن أسجد على (الرضف) (١) أحب إلي من أن أنفخ في صلاتي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک گرم پتھروں پر سجدہ کرنا نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6701
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6701، ترقيم محمد عوامة 6602)
٦٧٠٢ - [حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن عبد اللَّه بن (أبي) (١) الهذيل قال: لأن أضع جبهتي على جمرة حتى تطفأ (أحب) (٢) إلي من (أن) (٣) أنفخ في صلاتي] (٤) ثم أسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میں اپنی پیشانی کو کسی انگارے پر رکھوں اور اسے ٹھنڈا کردوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نماز میں پھونک مار کر سجدہ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6702
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6702، ترقيم محمد عوامة 6603)
٦٧٠٣ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن مسلم (عن) (١) ابن عباس أنه قال: النفخ في الصلاة كلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز منہ سے نکالنا کلام کرنے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6703، ترقيم محمد عوامة 6604)
٦٧٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن الجسن بن (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) أبي الضحى عن ابن عباس (أنه) (٣) قال: النفخ (في الصلاة) (٤) (كلام) (٥) يقطع الصلاة) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز منہ سے نکالنا نماز کو توڑ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6704
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6704، ترقيم محمد عوامة 6605)
٦٧٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء أنه كره النفخ في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نے نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6705
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6705، ترقيم محمد عوامة 6606)
٦٧٠٦ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يكره النفخ في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6706
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6706، ترقيم محمد عوامة 6607)
٦٧٠٧ - حدثنا ابن مهدي عن إسرائيل عن أبي حصين أن أبا (عبد الرحمن) (١) (كره) (٢) النفخ في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن نے نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6707
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6707، ترقيم محمد عوامة 6608)
٦٧٠٨ - حدثنا وكيع عن كهمس عن (ابن) (١) بريدة قال: (كان يقال) (٢): من الجفاء أن ينفخ الرجل في صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ آدمی کا نماز میں پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنا بےدینی کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6708، ترقيم محمد عوامة 6609)
٦٧٠٩ - حدثنا محمد بن عبيد عن سفيان العصفري قال: صليت في حجرة (١) الشعبي فنفخت فنهاني وقال: (إن) (٢) رأيت أذى فأمسحه بيدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان عصفری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کے کمرے میں نماز پڑھی، میں نے پھونک کر منہ سے کوئی چیز نکالی تو انہوں نے مجھے منع کیا اور فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی ایسی چیز محسوس ہو تو اسے ہاتھ سے صاف کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6709
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6709، ترقيم محمد عوامة 6610)
٦٧١٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن أبي صالح أن قريبًا لأم سلمة صلى فنفخ فقالت (١) أم سلمة: لا تفعل فإن رسول اللَّه ﷺ قال لغلام لنا أسود: -يقال له رباح-: "ترب يا رباح وجهك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کے کسی رشتہ دار نے دورانِ نماز پھونک کر منہ سے کوئی چیز نکالی تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ایک کالے غلام سے جس کا نام رباح تھا، فرمایا تھا کہ اے رباح ! اس مٹی کو اپنے چہرے پر مل لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6710
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي حمزة، وقد اختلف في تعيين أبي صالح، والحديث أخرجه أحمد (٢٦٧٤٤)، والترمذي (٣٨١)، والحاكم ١/ ٢٧١ والنسائي في الكبرى (٥٤٨)، وابن حبان (١٩١٣)، والدولابي ١/ ١٥٨، والطبراني ٢٣/ (٧٤٢). وابن عبد البر في الاستذكار ٦/ ١٨٦، وأبو يعلى (٦٩٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6710، ترقيم محمد عوامة 6611)
٦٧١١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن يحيى بن أبي كثير أنه كره النفخ في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر نے نماز میں پھونک کے ذریعے کسی چیز کے نکالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6711، ترقيم محمد عوامة 6612)