کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: فرمانِ باری تعالی «كانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ» ( رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں ) کی تفسیر
٦٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن أبي العالية. . ﴿(كَانُوا) (١) قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: لا ينامون عن (العشاء) (٢) الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } (رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ عشاء کی نماز سے پہلے نہیں سوتے۔
٦٤٤٥ - حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن. . ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ (١٧) وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [الذاريات ١٧ - ١٨] قال: صلّوا فلما كان السحر استغفروا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ ، وَبِالأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں، اور سحری کے وقت گناہوں کی معافی مانگتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اور سحری کے وقت اٹھ کر استغفار کرتے ہیں۔
٦٤٤٦ - حدثنا حميد عن إسماعيل بن أبي خالد عن رجل عن الحسن عن عبد اللَّه بن رواحة. . ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: هجعوا قليلًا ثم مدوها إلى السحر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رواحہ فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ تھوڑی دیر سوتے ہیں پھر سحری تک عبادت کرتے ہیں۔
٦٤٤٧ - حدثنا غندرعن ابن جريج عن عطاء ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: ذلك إذ أمروا بقيام الليل وكان أبو ذر يحتجز احتجازة ويأخذ العصا فيعتمد عليها فكانوا كذلك حتى (نزلت) (١) الرخصة: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ (٢) [المزمل: ٢٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صحابہ کرام کو رات کے اکثر حصہ میں عبادت کا حکم دیا گیا تھا، حضرت ابو ذر اس آیت کے نزول کے بعد بستر کے قریب بھی نہ جاتے اور لاٹھی کے سہارے سے ساری رات عبادت کرتے۔ پھر اس آیت میں رات کی عبادت کے بارے میں رخصت نازل ہوئی { فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } قرآن میں سے جو تمہارے لئے ممکن ہو اس کی تلاوت کرلو۔
٦٤٤٨ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) (بكير) (٢) بن أبي السميط قال: حدثنا قتادة في قوله (تعالى) (٣): ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: كان الحسن يقول: (قليلًا) (٤) من الليل ما ينامون.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ رات کو بہت تھوڑا سوتے ہیں۔ حضرت مطرف بن عبد اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں وہ اللہ کی عبادت نہ کرتے ہوں۔ حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ عشاء کی نما ز سے پہلے نہیں سویا کرتے تھے۔
٦٤٥١ - حدثنا (ابن) (١) علية عن سعيد عن قتادة عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: قلّ ليلة أتت عليهم هجعوها كلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شخیر فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں وہ پوری رات جاگتے ہوں۔
٦٤٥٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن (أبي) (١) بسطام عن الضحاك قال: (المتقين هم القليل) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک { الْمُتَّقِیْنَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ تھوڑے ہیں۔
٦٤٥٣ - حدثنا مروان بن معاوية عن إسماعيل بن أبي خالد عن رجل عن الحسن ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: هجعوا قليلا ثم مدوها إلى السحر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ رات کو تھوڑی دیر سوتے ہیں پھر سحری تک عبادت کرتے ہیں۔
٦٤٥٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عوف عن سعيد بن أبي الحسن قال: قل ليلة أتت عليهم هجعوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں وہ پوری رات جاگتے ہوں۔
٦٤٥٥ - حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن ليث عن مجاهد قال: كانوا لا ينامون كل الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہدفرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ پوری رات نہیں سوتے۔
٦٤٥٦ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: قلّ ليلة تمر بهم إلا صلوا فيها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں نماز نہ پڑھتے ہوں۔
٦٤٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن الضحاك قال: كانوا من الناس: قليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ { کَانُوْا } کا معنی ہے : من الناس قلیل
٦٤٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: ينامون.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مایھجعون کا معنی ہے ماینامون یعنی وہ نہیں سوتے۔
٦٤٥٩ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي نجيح: كانوا قليلًا (ما) (١) ينامون ليلة حتى الصباح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بہت کم راتیں ایسی ہیں جن میں وہ صبح تک سوئے رہتے ہوں۔