٦٢٤١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن إدريس عن شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر أنه قدم (و) (٢) على الربذة عبد حبشي فأقيمت الصلاة، فقال: تقدم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر ربذہ تشریف لائے تو وہاں کا گورنر ایک حبشی غلام تھا، جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابوذر نے اسے نماز کے لئے آگے بڑھنے کا حکم فرمایا۔
٦٢٤٢ - حدثنا يزيد (عن) (١) ابن سيرين أن أبا ذر قدم مملوكًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر نے ایک غلام کو نماز کے لئے آگے کیا۔
٦٢٤٣ - حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن ابن سيرين عن أبي ذر أنه صلى خلف عبد حبشي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر نے ایک حبشی غلام کے پیچھے نماز پڑھی۔
٦٢٤٤ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبي بكر بن أبي مليكة عن عائشة أنها كان يؤمها مدبر له] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ایک مدبر غلام کی امامت میں نماز پڑھا کرتی تھیں۔
٦٢٤٥ - (أبو بكر) (١) قال: حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن عبد الرحمن بن القائم بن محمد عن أبيه (أن) (٢) عائشة (٣) صلت خلف مملوك لها] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک غلام کی امامت میں نماز پڑھی۔
٦٢٤٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن داود بن أبي (هند) (١) عن أبي نضرة (٢) عن أبي سعيد مولى أبى أسيد قال: تزوجت وأنا عبد مملوك فدعوت أناسًا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ فيهم أبو ذر و (ابن مسعود) (٣) و (حذيفة) (٤) فأقيمت الصلاة فتقدم أبو ذر فقال: وراءك (٥) فالتفت إلى أصحابه فقال: كذلك قال: نعم قال: فقدموني فصليت بهم وأنا عبد مملوك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید مولی ابی اسید کہتے ہیں کہ میں ایک غلام تھا، جب میری شادی ہوئی تو میں نے کچھ صحابہ کرام کی دعوت کی جن میں حضرت ابو ذر، حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابو ذر آگے ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ پیچھے تشریف لے آئیے۔ انہوں نے کہا کیا واقعی ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا ہاں۔ پھر انہوں نے مجھے آگے کیا اور میں نے غلام ہونے کے باوجود انہیں نماز پڑھائی۔
٦٢٤٧ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن إبراهيم (بن) (١) أبي حبيبة عن داود ابن الحصين عن أبي سفيان أنه كان يؤم بني عبد الأشهل وهو مكاتب وفيهم رجال من أصحاب النبي ﷺ (منهم) (٢) محمد بن مسلمة و (سلمة) (٣) بن سلامة فأرادوا ⦗٣٢٤⦘ تأخيره فلما سمعا قراءته (قالا): (٤) (أمثل) (٥) هذا (٦) يؤخر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن حصین کہتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان ایک مکاتب غلام تھے اور بنو عبد الاشہل کی امامت کیا کرتے تھے۔ ان میں کچھ صحابہ کرام بھی تھے جیسے محمد بن مسلمہ اور سلمہ بن سلامہ۔ ایک مرتبہ لوگوں نے انہیں امامت سے ہٹانا چاہا تو ان دونوں حضرات نے ان کی قراءت سن کر فرمایا کہ کیا ان جیسے لوگوں کو امامت سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
٦٢٤٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين قالا: لا بأس أن يؤم العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ غلام کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم أنه كان لا يرى بأسًا أن يؤم العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ غلام کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٥٠ - [حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن بيان عن عامر، قال: لا بأس أن يؤم العبد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ غلام کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٥١ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن شهر قال: لا بأس أن يؤم العبد إذا كان أفقههم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث اور حضرت شہر فرماتے ہیں کہ غلام کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ وہ علم میں سب سے بڑھ کر ہو۔
٦٢٥٢ - حدثنا ابن مهدي عن زياد مولى أم الحسن، قال: (صلى) (١) (خلفي) (٢) سالم بن عبد اللَّه وأنا عبد.
مولانا محمد اویس سرور
زیاد مولی ام الحسن کہتے ہیں کہ میں غلام تھا لیکن سالم بن عبد اللہ نے میرے پیچھے نماز پڑھی۔
٦٢٥٣ - حدثنا معتمر عن كهمس عن العباس الجريري أن أبا مجلز كره إمامة العبد، وأن الحسن لم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز نے غلام کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے اور حسن اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
٦٢٥٤ - حدثنا روح بن عبادة قال: أخبرني ابن جريج عن عبد اللَّه بن عبيد اللَّه بن أبي مليكة أنهم كانوا يأتون عائشة: (١) أبوه (وعبيد) (٢) بن عمير والمسور بن مخرمة وأناس كثير فيؤمهم أبو عمرو مولى (لعائشة) (٣) وأبو عمرو حينئذ غلام لم يعتق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میرے والد، حضرت عبید بن عمیر، حضرت مسور بن مخرمہ اور دوسرے بہت سے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک مولیٰ ابو عمرو انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ابو عمرو اس وقت تک غلام تھے ابھی تک آزاد نہیں ہوئے تھے۔
٦٢٥٥ - حدثنا روح بن عبادة عن شعبة عن الحكم قال: كان يؤمنا في مسجدنا هذا (عبد) (١) أربعين سنة، مسجد كان يصلي فيه شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ہمیں اس مسجد میں ایک غلام چالیس سال تک نماز پڑھاتا رہا ہے، اس مسجد میں حضرت شریح بھی نماز پڑھا کرتے تھے۔
٦٢٥٦ - حدثنا أبو معاوية عن بشار بن (كدام) (١) السلمي عن عمرو بن ميسرة عن الحسن بن علي أنه صلى خلف مملوك في (حائط) (٢) من حيطانه وناس من أهل بيته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میسرہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کے پیچھے اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک کمرے میں نماز پڑھی۔
٦٢٥٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا بشير بن (سلمان) (١) عن يحيى بن (بسطام) (٢) التميمي عن الضحاك قال: لا يؤم المملوك وفيهم حر ولا يؤم من لم يحج وفيهم من قد حج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر نمازیوں میں کوئی آزاد ہو تو غلام امامت نہ کرائے اور اگر ان میں کوئی حاجی ہو تو غیر حاجی نماز نہ پڑھائے۔
٦٢٥٨ - حدثنا زيد بن حباب، قال: حدثني إبراهيم (١) بن أبي حبيبة قال: حدثني عبد اللَّه بن أبي سفيان عن [أبيه، قال: (خرجت) (٢) مع عبد اللَّه بن جعفر وحسين بن علي وابن أبي (أحمد) (٣) إلى ينبع فحضرت الصلاة فقدموني فصليت بهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن جعفر، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن ابی احمد کے ساتھ مقام ینبع کی طرف گیا، جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے مجھے آگے کیا اور میں نے انہیں نماز پڑھائی۔