٦٢١٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كيف أؤمهم وهم يعدلوني إلى القبلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں انہیں کیسے نماز پڑھاؤں حالانکہ وہ قبلے سے میرا رخ پھیر دیتے ہیں۔
٦٢١٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن حسن (١) بن أبي الحسناء عن زياد النميري قال: سألت أنسًا عن الأعمى يؤم فقال: ما أفقركم إلى ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زیاد نمیری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے نابینا کی امامت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی تمہیں کیا ضرورت ہے۔
٦٢٢٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن واصل الأحدب عن قبيصة بن برمة الأسدي، قال: قال عبد اللَّه: ما أحب أن يكون مؤذنوكم عميانكم (و) (١) قال: أحسبه قال: ولا قراؤكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہارے موذن نابینا ہوں۔ ایک راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں قاریوں کے بارے میں بھی فرمایا ۔
٦٢٢١ - حدثنا زيد بن حباب عن إسرائيل عن مرزوق عن سعيد بن جبير أنه قال: الأعمى لا يؤم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ نابینا امامت نہ کرائے۔