٦٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن أبي إسحاق عن رجل من طي أن ابن مسعود حج فصلى خلف أعرابي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود نے دوران حج ایک دیہاتی کے پیچھے نماز پڑھی۔
٦٢٢٣ - حدثنا معتمر (عن) (١) كهمس عن العباس الجريري أن أبا مجلز كره إمامة الأعرابي، وأن الحسن لم ير بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس جریری فرماتے ہیں کہ ابو مجلز دیہاتی کی امامت کو ناپسند فرماتے تھے اور حسن اس بارے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٦٢٢٤ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن (دارم) (١) قال: سألت سالمًا أيؤم الأعرابي المهاجر؟ قال: وما عليك إذا كان رجلًا صالحًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دارم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کیا اعرابی مہاجر کی امامت کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ نیک آدمی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٢٥ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) مغيرة عن إبراهيم أنه سئل عن إمامة العبد والأعرابي، فقال: العبد إذا فقه (أحبهما) (٢) إلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ کیا غلام اور دیہاتی کی امامت جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ غلام اگر فقیر ہو تو وہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
٦٢٢٦ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حماد عن إبراهيم، قال: لا بأس أن يؤم الأعرابي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دیہاتی کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٢٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن (أبي) (١) نجيح عن مجاهد أن ابن مسعود صلى خلف أعرابي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فراتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے دیہاتی کے پیچھے نماز پڑھی۔