٦٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو أسامة قال: أخبرنا (مجالد) (٢) عن الشعبي قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى بدر فاستخلف ابن أم مكتوم على المدينة فكان يؤمهم وهو أعمى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف تشریف لے گئے تو حضرت ابن ام مکتوم کو مدینہ میں اپنا نائب بنا گئے۔ وہ نابینا ہونے کے باوجود نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٦٢٠١ - حدثنا وكيع عن يونس عن أبي إسحاق عن الشعبي أن النبي ﷺ استخلف ابن أم مكتوم، فكان يؤم الناس وهو أعمى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب بنایا تو وہ نابینا ہونے کے باوجود لوگوں کی امامت کرایا کرتے تھے۔
٦٢٠٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن أناسًا (١) من أصحاب النبي ﷺ كانوا يؤمون (٢) وهم عميان منهم عتبان بن مالك ومعاذ بن عفراء وابن أم مكتوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ صحابہ نابینا ہونے کے باوجود لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ان میں حضرت عتبان بن مالک، حضرت معاذ بن عفراء اور حضرت ابن ام مکتوم شامل ہیں۔
٦٢٠٣ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن الزهري، قال: كان ناس من أهل بدر يؤمون في مساجدهم بعد ما ذهبت أبصارهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ کچھ بدری صحابہ بینائی زائل ہوجانے کے باوجود اپنی مسجدوں میں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٦٢٠٤ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: دخلنا على جابر بن عبد اللَّه وهو أعمى، فجاء وقت الصلاة فقام في نساجة ملتحفا (بها) (١) كلما وضعها على منكبيه رجع طرفاها (٢) إليه من صغرها ورداؤه إلى جنبه على المشجب فصلى بنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی بینائی زائل ہونے کے بعد ان کی خدمت میں حاضر تھے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو وہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے کھڑے ہوئے۔ جب وہ اسے اپنے کندھے پر رکھتے تھے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے کنارے زمین پر گرجاتے تھے۔ ان کی چادر ان کے پاس کپڑے لگانے کی کھونٹی پر لٹکی تھی۔ اس حال میں انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔
٦٢٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي عامر أن رجلًا سأل الحسن: أؤم قومي وأنا أعمى؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن سے سوال کیا کہ کیا میں نابینا ہونے کے باوجود اپنی قوم کو نماز پڑھا سکتا ہوں ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں۔
٦٢٠٦ - حدثنا روح بن عبادة عن ابن جريج عن عطاء سئل عن الأعمى يؤم قال: فقال: إذا كان أفقههم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ کیا نابینا امامت کرا سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اگر سب سے زیادہ علم رکھتا ہو۔
٦٢٠٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم، قال: لا بأس أن يؤم الأعمى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نابینا کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
٦٢٠٨ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (نا) (١) شريك عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير قال: أمنا ابن عباس وهو أعمى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نابینا ہونے کی حالت میں ہمیں نماز پڑھائی۔
٦٢٠٩ - حدثنا عبده عن هشام بن عروة عن ابن (لعمير) (١) عن أبيه أن رجلًا أعمى كان يؤم بني خطمة في زمن عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمیر کے والد فرماتے ہیں کہ ایک نابینا آدمی حضرت عمر کے زمانے میں بنی خطمہ کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔
٦٢١٠ - [حدثنا محمد بن الحسن قال: حدثنا شريك عن مهاجر، قال: كان البراء يصلي بنا وهو أعمى] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت براء نابینا ہونے کے باوجود ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٦٢١١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن (١) محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك [أنه كان يؤم قومه وهو أعمى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتبان بن مالک نابینا ہونے کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٦٢١٢ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا مالك] (١) بن أنس عن ابن شهاب عن محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك أنه كان يؤم قومه وهو أعمى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عتبان بن مالک نابینا ہونے کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔
٦٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (هشام) (١) عن أبيه، قال: كان إمام بني خطمة أعمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ بنو خطمہ کا امام نابینا تھا۔
٦٢١٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن زيد عن عمرو عن أبي جعفر قال: أمنا جابر بعد ما ذهب بصره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ہمیں بینائی زائل ہونے کے بعد نماز پڑھائی۔
٦٢١٥ - (حدثنا محمد بن فضيل) (١) عن يحيى بن سعيد قال: (سأل) (٢) الحكم ⦗٣١٧⦘ بن عتيبة القاسم عن الأعمى يؤم وتجوز شهادته فقال: ما (يمنعه) (٣) (أن يؤم) (٤) وتجوز شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حکم بن عتیبہ نے حضرت قاسم سے نابینا کی امامت اور گواہی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ امامت اور گواہی سے اسے کیا چیز روک سکتی ہے۔
٦٢١٦ - حدثنا ابن مهدي عن (عمر) (١) بن عطية قال: أمنا المسيب وهو أعمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیب نے نابینا حالت میں ہمیں نماز پڑھائی۔
٦٢١٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن حسن بن صالح عن شيخ يكنى (أبا) (١) عبد اللَّه أن ابن أبى أوفى أمهم وهو أعمى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک بزرگ ابو عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن ابی اوفیٰ نے نابینا حالت میں ہمیں نماز پڑھائی۔