کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے اس بات کی رخصت دی ہے کہ فرضوں کی جگہ نفل پڑھ سکتا ہے
٦١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (أبي بحر) (١)، عن شيخ قال: سئل ابن مسعود عن الرجل يصلي في مكانه الذي صلى فيه الفريضة قال: لا بأس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے سوال کیا گیا کہ آدمی نے جس جگہ فرض ادا کئے ہوں کیا اسی جگہ نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٦١٥٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه كان يصلي سبحته مكانه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرضوں کی جگہ پر ہی نفل ادا کرلیا کرتے تھے۔
٦١٥٤ - حدثنا معتمر عن عبيد (اللَّه) (١) بن عمر قال: رأيت القاسم وسالمًا يصليان الفريضة ثم يتطوعان في مكانهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو دیکھا کہ وہ فرض نماز پڑھنے کے بعد اسی جگہ نفل ادا فرما لیتے تھے۔ مجھے نافع نے بتایا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٦١٥٦ - حدثنا وكيع عن مسعر قال: سألت عطاء عن الرجل يتطوع في مكانه فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اسی جگہ نماز پڑھ لے تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٦١٥٧ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا يصليان التطوع في مكانهما الذي يصليان فيه الفريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن ومحمد اسی جگہ نفل پڑھتے تھے جہاں انہوں نے فرض نماز ادا کی تھی۔
٦١٥٨ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: غير الإمام إن شاء لم يتحول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ امام کے علاوہ دوسرے لوگ اگر چاہیں تو اپنی جگہ نہ بدلیں۔