٤٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن أنه كان يكره أن يعتمد الرجل على الحائط في الصلاة المكتوبة إلا من علة ولم ير به (بأسا في التطوع) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی فرض نماز کے دوران بلا عذر دیوار سے سہارا لے۔ البتہ نفل میں ایسے کرنا جائز قرار دیتے تھے۔
٤٩٦٠ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يتساند الرجل على الحائط في الصلاة وكان يكره رفع رجليه إلا من علة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی دیوار سے نماز میں سہارا لے، وہ بغیر عذر کے دونوں پاؤں کو اٹھانا بھی مکروہ خیال فرماتے تھے۔
٤٩٦١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال كان يكره أن يرفع إحدى رجليه على الأخرى في الصلاة ويستند إلى جدار إلا من علة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی نماز میں ایک پاؤں اٹھائے اور اس بات کو بھی مکروہ خیال فرماتے تھے کہ بغیر عذر کے دیوار سے سہارا لے۔
٤٩٦٢ - حدثنا جرير عن ليث عن حماد عن مجاهد قال: ينقص من أجره بقدر ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جتنا سہارا لے گا اس کے اجر میں اتنی ہی کمی ہوگی۔
٤٩٦٣ - [حدثنا معتمر عن ليث عن حماد عن مجاهد في الرجل يصلي فيتوكأ على الحائط قال: ينقص من صلاته بقدر ذلك] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اس شخص کے بارے میں جو نماز کے دوران کسی دیوار وغیرہ سے سہارا لے فرماتے ہیں کہ جتنا سہارا لے گا اس کی نماز میں اتنی ہی کمی ہوجائے گی۔
٤٩٦٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: لا بأس أن يعتمد على الحائط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ نماز میں دیوار کا سہارا لینے میں کوئی حرج نہیں۔
٤٩٦٥ - حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن أنه كره أن يعتمد الرجل على شيء في الفريضة إلا من علة، وكان لا يرى به بأسا في التطوع، وكان ابن سيرين (يكرهه) (١) في الفريضة والتطوع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی فرض نماز میں بلا عذر کسی چیز کا سہارا لے۔ البتہ فرض نماز میں وہ اس بارے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت ابن سیرین فرض اور نفل دونوں میں اسے مکروہ خیال فرماتے تھے۔