کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
٢٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر: أن النبي ﷺ جلعس فثنى اليسرى ونصب اليمنى يعني: في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اس طرح بیٹھے کہ آپ نے اپنے بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا۔
٢٩٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حسين المعلم عن بديل عن أبي الجوزاء عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ إذا سجد فرفع رأسه لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان (يفرش) (١) رجله اليسرى وينصب (رجله) (٢) اليمنى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرے سجدے میں نہ جاتے جب تک پوری طرح بیٹھ نہ جاتے، آپ بیٹھتے ہوئے بائیں پاؤں کو نیچے بچھاتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔
٢٩٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: كان النبي ﷺ إذا جلس في الصلاة (افترش) (١) رجله اليسرى حتى اسود ظهر قدميه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر رکھتے تھے، یہاں تک کہ اس عمل کی وجہ سے آپ کے پاؤں کا ظاہری حصہ سیاہ ہوگیا تھا۔
٢٩٥٥ - حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط قال: ⦗١٢٥⦘ كان النبي ﷺ (يفترش) (١) اليسرى وينصب اليمنى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائیں پاؤں کو بچھاتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔
٢٩٥٦ - حدثنا ابن فضيل وأبو أسامة عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن عبد اللَّه ابن عبد اللَّه عن ابن (عمر) (١) قال: إن من سنة الصلاة أن (يفرش) (٢) اليسرى، وأن ينصب اليمنى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نما زکی سنت یہ ہے کہ بائیں پاؤں کو بچھایا جائے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے۔
٢٩٥٧ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن أبي نضرة عن كعب قال: (إذا) (١) قعدت (فافرش) (٢) رجلك اليسرى؛ فإنه أقوم لصلاتك (ولصلبك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب تم نماز میں بیٹھو تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھاؤ ، کیونکہ اس میں تمہاری نماز اور تمہاری کمر کے لئے زیادہ بہتری ہے۔
٢٩٥٨ - حدثنا وكيع والفضل بن دكين عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: أنه كان ينصب اليمنى (ويفرش) (١) اليسرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر رکھتے تھے۔
٢٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: (و) (١) كان ربما أضجع رجليه جميعا، وربما أضجع اليمنى ونصب اليسرى، (و) (٢) كان محمد إذا جلس نصب اليمنى و (أضجع) (٣) اليسرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بعض اوقات اپنے دونوں پاؤں بچھا لیتے تھے اور بعض اوقات دائیں پاؤں کو بچھاتے اور بائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔ اور محمد جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے اور بائیں کو بچھا لیتے تھے۔
٢٩٦٠ - حدثنا وكيع عن محل عن إبراهيم مثل قول محمد.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی بات منقول ہے۔