کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہی جائے گی
٢١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي محذورة (أن) أذانه كان مثنى وأن إقامته كانت واحدة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ حضرت ابو محذورہ کی اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک مرتبہ ہوا کرتی تھی۔
٢١٤٦ - حدثنا أبو بكر: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن (أبي المثنى) (١) عن ابن عمر قال: كان بلال يشفع الأذان ويوتر الإقامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت بلال اذان کو دو دو مرتبہ اور اقامت کو ایک ایک مرتبہ کہا کرتے تھے۔
٢١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة قال: أظنه عن أنس قال: أمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال کو حکم دیا گیا تھا کہ اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ کہیں۔
٢١٤٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن خالد عن أبي قلابة عن أنس: أمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال کو حکم دیا گیا تھا کہ اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ کہیں۔
٢١٤٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن قتادة عن أنس قال: الأذان مثنى، والإقامة واحدة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک مرتبہ ہے۔
٢١٥٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام (بن) (١) عروة أن أباه كان يشفع الأذان، ويوتر الإقامة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اذان دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ کہا کرتے تھے۔
٢١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن سليمان التيمي قال: حدثني رجل في مسجد الكوفة عن ابن عمر قال: (الأذان مثنى) (١) والإقامة واحدة، قال: كذلك أذان بلال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اقامت ایک مرتبہ ہے اور حضرت بلال کی اذان یونہی تھی۔
٢١٥٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن أنس قال: الأذان مثنى والإقامة واحدة] (١) (٢).
٢١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: كان يقول الإقامة مرة مرة، فإذا قال: قد قامت الصلاة قال: مرتين.
٢١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد عن مكحول قال: أقمت معه بدابق فلم يكن يزيد على (الإقامة) (١)، ولا يؤذن، و (يجعلها) (٢) واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں مقام دابق میں حضرت مکحول کے ساتھ تھا وہ اذان اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہا کرتے تھے۔
٢١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن إسماعيل عن أبي المثنى: أن ابن عمر كان يأمر المؤذن (أن) (١) يشفع الأذان ويوتر الإقامة، ليعلم المار الأذان من الإقامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مثنی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما موذن کو حکم دیتے تھے کہ اذان دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ کہے، تاکہ گذرنے والے کو اذان اور اقامت کا فرق معلوم ہو سکے۔