٢١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن عبد الرحمن بن يحيى عن (الهجنع) (١) بن قيس أن عليًّا كان يقول: الأذان (٢) (مثنى) و (الإقامة) (٣) (مثنى) (٤) وأتى على مؤذن يقيم مرة مرة فقال: ألا جعلتها مثنى لا أم للآخر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اذان اور اقامت دونوں دو دو مرتبہ کہی جائیں گی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہایک مرتبہ اقامت کہنے والے مؤذن کو ڈانٹتے اور اسے کہتے اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دور کرے، تم نے اقامت دو دو مرتبہ کیوں نہیں کہی ؟
٢١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن إسماعيل عن (عبيد) (١) مولى سلمة بن الأكوع: أن سلمة بن الأكوع كان يثني الإقامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید کہتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع دو مرتبہ اقامت کہا کرتے تھے۔
٢١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن هامش عن ابن أبي ليلى عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان عبد اللَّه بن زيد الأنصاري مؤذن النبي ﷺ يشفع الأذان والإقامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید انصاری جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن تھے اذان اور اقامت کو دو دو مرتبہ کہا کرتے تھے۔
٢١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن أبيه عن شعيب عن أبي العالية قال: إذا جعلتها إقامة فاثنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ جب تم اقامت کہو تو دو مرتبہ کہو۔
٢١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن إبراهيم قال: لا تدع أن تثني الإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تم دو مرتبہ اقامت کہنا مت چھوڑو۔
٢١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: نا عبد الواحد بن زياد قال: ثنا الحجاج بن أرطأة قال: نا أبو إسحاق قال: كان أصحاب علي وأصحاب عبد اللَّه يشفعون الأذان والإقامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ کے شاگرد اذان اور اقامت کو دو دو مرتبہ کہا کرتے تھے۔
٢١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) أسامة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إن بلالًا كان يثني الأذان والإقامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت بلال اذان اور اقامت کو دو دو مرتبہ کہا کرتے تھے۔