١٧١٨ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: أطيب الصعيد الحرث، أو أرض الحرث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پاک مٹی کھیت کی مٹی ہے۔
١٧١٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: إذا (أدركت) (١) الرجل الصلاة، ولم يجد الماء ولم يصل إلى الأرض، ضرب بيديه على سرجه وعلى لبده، ثم تيمم به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کو نماز کا وقت ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے اور وہ زمین تک پہنچنے کی رسائی نہ رکھتا ہو تو اپنے ہاتھوں کو جانور کی زین پر مار کر تیمم کرلے۔
١٧٢٠ - حدثنا (رواد) (١) بن جراح أبو عصام عن (صدقة) (٢) بن يزيد عن حماد قال: تيمم بالصعيد، والجص، والجبل، والرمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ مٹی، چونے، پتھر اور ریت سے تیمم کیا جاسکتا ہے۔
١٧٢١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: كل شيء ضربت عليه بيديك، فهو سعيد، حتى غبار لبدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس پر تم اپنا ہاتھ مارو وہ تمہارے لیے ” صعید “ ہے حتیٰ کہ تمہارے جانور کی زین پر پڑا ہوا غبار بھی۔
١٧٢٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يتيمم بالكلاء، والجبل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ گھاس اور پہاڑ کے پتھر یا مٹی سے تیمم کیا جاسکتا ہے۔
١٧٢٣ - حدثنا ابن علية عن (عوف) (١) عن (أبي عثمان) (٢) (النهدي) (٣) قال ⦗٣٤٥⦘ بلغني أن النبي ﷺ قال: "تمسحوا بها؛ فإنها بكم برة"، يعني: الأرض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مل لو یہ تمہارے لیے پاکی کا ذریعہ ہے۔