کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیٹر نے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
١٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن عبيد اللَّه بن العيزار عن طلق ابن حبيب قال: رأى عمر بن الخطاب رجلًا (حك) (١) إبطه، أو مسه فقال له: قم فاغسل يدك، أو تطهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو بغل میں خارش کر رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا اٹھو اور ہاتھ دھوؤ یا وضو کرو۔
١٤٦٣ - [حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: قال عمر: من نَقّى أنفه أو مسَّ إبطه؛ توضأ] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں جو اپنا ناک صاف کرے یا بغل میں خارش کرے، اسے چاہئے کہ وضو کرے۔
١٤٦٥ - [حدثنا (خلف) (١) بن خليفة عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: (ليس في نتف الأبط وضوء] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بغل کے بال اکھیڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
١٤٦٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن: أنه سئل عن رجل يمس أنفه، وينتف إبطه؟ فلم يرَ به بأسًا إلا أن يدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بغل کو ہاتھ لگائے یا بال اکھیڑے تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر خون نکلا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
١٤٦٧ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: هؤلاء يقولون: من مس إبطه أعاد الوضوء، وأنا (لا) (١) أقول ذلك، ولا أدري ما هذا؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ بغل کو ہاتھ لگانے والا دوبارہ وضو کرے گا، میں نہ یہ کہتا ہوں اور نہ اس بات کو جانتا ہوں۔
١٤٦٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو: أنه كان يغتسل من نتف الإبط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بغل کے بال اکھیڑنے کے بعد غسل فرماتے تھے۔
١٤٦٩ - حدثنا أبو خالد -وليس بالأحمر- عن هشام عن يحيى بن أبي كثير عن عون بن عبد اللَّه بن عتبة والزهري قالا: إذا مس الرجل إبطه أعاد الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بغل کو ہاتھ لگائے تو دوبارہ وضو کرے۔