١٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم وابن علية عن (الجريري) (١) عن خالد ابن (غلاق) (٢) (العيشي) (٣) عن أبي هريرة قال: من استحق نوما، فقد وجب عليه الوضوء، زاد ابن علية: قال الجريري: فسألنا عن استحقاق النوم، فقال: إذا وضع جنبه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : کہ جو شخص نیند کا استحقاق کرے اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ جریری کہتے ہیں کہ ہم نے استحقاق نوم کے بارے میں سوال کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد پہلو کو زمین پر لگانا ہے۔
١٤٢٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن طاوس: أنه سئل عن الرجل ينام وهو جالس قال: إنما هو وكاء، فإذا ضيعته، أي يقول: يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے بیٹھ کر سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا یہ ٹیک لگا کر سونے کے مترادف ہے اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
١٤٣٠ - حدثنا وكيع عن عمر بن الوليد الشني عن عكرمة قال: إنما هو وكاء، فإذا نام توضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ بیٹھ کر سونا ٹیک لگا کر سونا ہے، اس طرح سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔
١٤٣٢ - [حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان يرى على من نام جالسًا وضوءًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے نزدیک بیٹھ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
١٤٣٣ - حدثنا حفص عن أشعث، وعمرو عن الحسن أنه كان يقول: من دخله النوم فليتوضأ] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے تھے کہ جس میں نیند داخل ہوئی اس کا وضو ٹوٹ گیا۔
١٤٣٤ - حدثنا وكيع عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا: إذا خالط النوم قلبه قائما أو جالسا، توضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جس کسی کے دل میں نیند سرایت کرگئی خواہ وہ بیٹھا ہو یا کھڑا ہو اس کا وضو ٹوٹ گیا۔
١٤٣٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرني مالك بن أنس قال: أخبرني زيد بن أسلم أن عمر بن الخطاب قال: من وضع جنبه فليتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنا پہلو لگا لے وہ وضو کرے۔
١٤٣٦ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا أبان العطار عن هشام بن عروة عن أبيه قال: إذا استثقل نومًا (وهو قاعد) (٢)؛ توضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب بیٹھ کر سونے میں نیند غالب آگئی تو وضو ٹوٹ گیا۔