١٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد اللَّه: لأن أتوضأ من كلمة (خبيثة) (١)؛ (أحب) (٢) إلي من أن أتوضأ من طعام طيب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بری بات کے بعد وضو کرنا مجھے اچھے کھانے کے بعد وضو کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
١٤٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن أبي النجود عن ذكوان أبي صالح ⦗٢٨٦⦘ عن عائشة قالت: يتوضأ أحدكم من الطعام الطيب، ولا يتوضأ من الكلمة الخبيثة يقولها لأخيه! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کتنی عجیب بات ہے کہ آدمی اچھا کھانا کھا کر وضو کرتا ہے لیکن بری بات کرنے کے بعد وضو نہیں کرتا۔
١٤٣٩ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن محمد قال: نبئت أن شيخا من الأنصار كان يمر بمجلس لهم فيقول: أعيدوا الوضوء؛ فإن بعض ما تقولون أشر من الحَدَث.
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ ایک انصاری بزرگ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے اور ان سے فرمایا ” دوبارہ وضو کرو کیونکہ جو بات تم نے کی ہے وہ حدث سے زیادہ بری ہے۔ “
١٤٤٠ - حدثنا ابن علية عن هشام عن محمد قلت لعبيدة: ممَّ (يعاد) (١) الوضوء؟ قال: من الحَدَث، وأذى المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے پوچھا کہ کس کس عمل سے وضو کا اعادہ کیا جائے گا فرمایا حدث اور مسلمان کی ایذا دہی سے۔
١٤٤١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن الحارث قال: كنت آخذ بيد إبراهيم فذكرتُ رجلًا فاغتبته (قال) (١): فقال: لي ارجع، فتوضأ (٢) كانوا يعدون هذا هجرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا کہ میں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کی غیبت کی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ وضو کرو کیونکہ اسلاف اسے بدترین بات شمار کیا کرتے تھے۔
١٤٤٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن موسى بن أبي الفرات قال: سأل رجلان عطاء (فقالا) (١): (مر) (٢) بنا رجل، فقلنا: المخنث، قال: قلتما له قبل (أن تصليا)؟ (٣) أو بعد ما صليتما؟ فقالا: قبل أن نصلي، فقال: توضئا، وعودا لصلاتكما؛ فإنكما لم (تكن) (٤) لكما صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ دو آدمیوں نے حضرت عطا سے سوال کیا کہ ہمارے پاس سے ایک آدمی گزرا تو ہم نے اسے مخنث کہا۔ حضرت عطاء نے پوچھا کہ تم نے نماز پڑھنے سے پہلے کہا تھا یا بعد میں کہا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز سے پہلے کہا تھا۔ فرمایا تم دونوں وضو کرو اور دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔
١٤٤٣ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق: أن أبا صالح (١) (أنشد) (٢) شعرًا فيه هجاءً، فدعا بماء، فتمضمض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو صالح کے منہ سے ایسا شعر نکل گیا جو ہجو پر مشتمل تھا، پس اس پر انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی۔
١٤٤٤ - حدثنا (عمر) (١) بن أيوب عن جعفر بن برقان قال: سألت الزهري في شيء من الكلام وضوء: شعر، أو غيره؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ کوئی کلام یا کوئی شعر وغیرہ ایسا ہے جس سے وضو ٹوٹ جائے، فرمایا نہیں۔
١٤٤٥ - حدثنا الفضل عن أبي (خلدة) (١) عن أبي العالية قال ليس في (الكلام) (٢) والسباب والصخب وضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ کسی کلام، گالی گلوچ یا فضول بات سے وضو نہیں ٹوٹتا۔