کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ ام اسید انصاریہ رضی اللہ عنہا، ام مالک بہزیہ، بنو سلیم سے
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ فِي الْفِتْنَةِ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي مَالِهِ يَعْبُدُ رَبَّهُ، وَيُؤَدِّي حَقَّهُ، وَرَجُلٌ أَخَذَ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يُخِيفُهُمْ وَيُخِيفُونَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتنے کے زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے مال میں الگ تھلگ رہ کر اپنے رب کی عبادت کرے اور اس کا حق ادا کرے، اور وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے نکلے، وہ دشمن کو ڈراتا ہے اور دشمن اسے ڈراتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: «رَجُلٌ أَخَذَ بِرَأْسِ فَرَسِهِ قَدْ أَخَافَ الْعَدُوَّ وَأَخَافُوهُ» ، فَقَالَ رَجُلٌ لِطَاوُوسٍ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَيُّ عَدُوٍّ؟ قَالَ: الْمُشْرِكِينَ "
ترجمہ
سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ فتنے کے زمانے میں سب سے افضل شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہو، اس نے دشمن کو خوفزدہ کر رکھا ہو اور دشمن نے اسے خوفزدہ کر رکھا ہو۔“ ایک شخص نے طاؤس سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! کون سا دشمن؟ انہوں نے کہا: مشرکین۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، فَقَالَ: «خَيْرُكُمْ فِيهَا، وَخَيْرُ النَّاسِ فِيهَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي مَالِهِ يَعْبُدُ اللهَ، وَيُعْطِي حَقَّهُ، وَرَجُلٌ أَخَذَ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ وَيُخِيفُونَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تم میں سے بہترین، اور لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے مال میں الگ تھلگ رہ کر اللہ کی عبادت کرے اور اس کا حق ادا کرے، اور وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے دشمن کو خوفزدہ کرے اور دشمن اسے خوفزدہ کرے۔“