المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم أوس البهزية باب: سیدہ ام اوس بہزیہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنُ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أُمِّ أَوْسٍ الْبَهْزِيَّةِ، أَنَّهَا " سَلَّتْ سَمْنًا لَهَا فَجَعَلَتْهُ فِي عُكَّةٍ، ثُمَّ أَهْدَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ، وَأَخَذَ مَا فِيهِ، وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ، فَرَدُّوهَا عَلَيْهَا وَهِيَ مَمْلُوءَةٌ سَمْنًا، فَظَنَّتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْبَلْهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهَا صُرَاخٌ فَقَالَ: «أَخْبَرُوهَا بِالْقَصَّةِ» ، فَأَكَلَتْ مِنْهُ بَقِيَّةَ عُمُرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَوِلَايَةِ عُمَرَ، وَوِلَايَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ مَا كَانَ "سیدہ ام اوس بہزیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنا گھی صاف کر کے ایک کپے (چمڑے کے برتن) میں ڈالا، پھر اسے نبی کریم ﷺ کو ہدیہ کیا۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا، اس میں جو کچھ تھا لے لیا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر لوگوں نے وہ برتن انہیں واپس کر دیا جبکہ وہ گھی سے بھرا ہوا تھا، تو انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے قبول نہیں کیا۔ چنانچہ وہ روتی ہوئی نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اصل بات بتا دو۔“ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی باقی زندگی، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت تک اسی میں سے کھاتی رہیں، یہاں تک کہ سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جو کچھ ہوا وہ ہوا۔